ہند وپاک رسم الخط قرآن کا اطلاق
November 25, 2010 – 1:16 AM | کوئی تبصرہ نہیں

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کچھ  عرصہ سے مدینہ منورہ کنگ فہد پرنٹنگ پریس اس نہج پر چلا کہ اپنی تمام طبع شدہ تراجم وکتابوں کو آن لائن کرنا چاہئے۔ سو اس کام کے لئے انہوں نے …

بقيہ پڑھيں »
خطِ نستعلیق

نستعلیق کے متعلق تمام دستاویزات جن میں مضامین اور نمونہائے خط شامل ہیں۔

سیاست

یہ زمرہ قومی سیاست کے ارد گرد گھومے گا۔ جہاں تنقیدی اور اصلاحی مضامین ہوں گے۔

شعر وشاعری

شعر وشاعری کا زمرہ جہاں مختلف شاعروں کا مختلف مضامین پر کلام شائع ہوگا۔

عربی خطوط

خطوط کے بارے میں معلوماتی خزانہ۔ ثلث نسخ دیوانی کوفی رقعہ اور دیگر عربی خطوط۔

مدینہ منورہ

جوارِ حبیب سے دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ۔ تصویریں اور ویڈیو مناظر۔

ان شاء اللہ کيسے لکھنا چاہئے؟

November 26th, 2010

بسم اللہ الرحمن الرحيم
پہلے بندہ خود ( ان شاء اللہ) کو(انشاء اللہ) کی صورت میں لکھا کرتا تھا۔ لیکن جب سے معلوم ہوا کہ املائی طور پر ایسا لکھنا غلط ہے تو ایسا لکھنا چھوڑ دیا ۔
در اصل (ان) کو ملاکر لکھنے سے معنی بدل جاتا ہے۔ انشاء کے معنی غالبا اردو میں ’’تحریر ‘‘ کرنے کے آتے ہیں۔ جو کہ مقصود نہیں۔ بلکہ ہمارا مقصد (ان شاء اللہ) کہنے سے ( اگر اللہ نے چاہا ) ہوتا ہے۔
اور عربی زبان میں (انشاء) کے معنی ( بلڈنگ بنانے) میں آتا ہے مثال کے طور پر مندرجہ ذیل عربی مثال اور اس کا ترجمہ ملاحظہ ہو
(1) انشانا مصنعًا للملابس۔ ہم نے کپڑے بنانے کی فیکٹری تعمیر کی۔
( 2) ھذا الانشاء جمیل۔ یہ بلڈنگ خوبصورت ہے۔ بلڈنگ کو ’’عمارہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
امید ہے آئندہ تمام احباب اس بات کا خیال رکھیں گے۔
یہ تو (ان شاء اللہ) لکھنے کا علمی روپ تھا۔ اب دیکھتے ہیں کہ (ان شاء اللہ ) کی کس طرح ہم انسان ’’درگت ‘‘ بناتے ہیں۔
(1) ایک تو (ان شاء اللہ) وہ ہوتا ہے جو انسان کسی بات پر دل سے کہتا ہے کہ واقعتا (اگر اللہ نے چاہا) تو یہ کام ضرور ہوگا یا یہ کام ضرور کروں گا۔ ایسے لوگ خود دار اور با اعتماد ہوتے ہیں۔
(2) دوسری قسم (ان شاء اللہ) کی وہ ہے جو ہم بالعموم کسی کو ’’ٹرخانے‘‘ کے لئےاس بابرکت لفظ کا سہارا لیتے ہیں۔ کئی دفعہ دوست احباب آپس میں کسی بات پر اتفاق کرنے کے بعد یہ کہتے ہیں۔ انداز تکلم سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کس قسم کا (ان شاء اللہ) بول رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر کسی لا یعنی شخص یعنی جو خومخواہ تنگ کرنے کا عادی ہو اور ہمیں چکرانے کی حد پر اتر آئے تو اسے کہتے ہیں: ( ان شاء اللہ) (ان شاء اللہ) خدا نے چاہا تو ضرور بضرور کچھ ہوگا۔ پھر واقعتا اسباب مہیا کئے بغیر خدا پر ڈوری ڈال دی جاتی ہے۔ اور جس کے لئے کام کرنا ہو تو اسکو (ان شاء اللہ) ایک دفعہ سناکر خوشخبری کے انتظار کا کہا جاتا ہے۔
(3) یہ ایک ایسا ( ان شاء اللہ) ہے جو غیر ارادی طور پر منہ سے نکل پڑتا ہے۔ اس کا مقصد اگلے کو رد کرنا نہ اس کا کام کرنا مقصد ہوتا ہے۔ ایسے لوگ کہہ کر بھول جاتے ہیں بلکہ یاد ہی کہاں رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔

Popularity: 92%

ہند وپاک رسم الخط قرآن کا اطلاق

November 25th, 2010

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کچھ  عرصہ سے مدینہ منورہ کنگ فہد پرنٹنگ پریس اس نہج پر چلا کہ اپنی تمام طبع شدہ تراجم وکتابوں کو آن لائن کرنا چاہئے۔ سو اس کام کے لئے انہوں نے ایک ویب سائٹ بھی قائم کی جسے آپ اس رابط پر دیکھ سکتے ہیں۔

http://publications-img.qurancomplex.gov.sa
آج قرآن کمپلیکس نے پاک رسم الخط والا ہند وپاک قرآن بھی نشر کیا۔ جس کا مشاہدہ آپ اس لنک پر کرسکتے ہیں۔ مجھے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اب قرآن کمپلیکس کے شائع شدہ تراجم دنیا بھر میں پڑھے جا سکتے ہیں۔ نیز ان حضرات کی بھی خوش قسمتی ہے جو قرآن پاک اور قرآن پاک کے تراجم کو پروگرام کی شکل دے کر لوگوں کے لئے مہیا کریں گے اور نیکیاں کمائیں گے۔
میں نے  چونکہ ایپل کمپنی کی مصنوعات آئی پوڈ، آئی پیڈ اور آئی فون بالتسلسل خریدے اس لئے مجھے شوق ہوا کہ قرآن کمپلیکس کا شائع شدہ قرآن پاک بھی ان چیزوں میں ظہور پذیر ہو۔ گوکہ پہلے قرآن پاک کے پروگرام ایپل سٹور پر  موجود ہیں مگر میرے ذوق پر پورا نہیں اترتے۔ جبکہ قرآن کمپلیکس کی سائٹ پر جو تصویری قرآن پاک اور تراجم شائع ہوئے ہیں وہ  مذکور بالا ڈیوائسوں پر پروگراموں کے ذریعہ لائے جا سکتے ہیں اور موجودہ جتنے بھی ایپس ہیں ان سے خوبصورت انداز میں پروگرام کئے جا سکتے ہیں۔
اس حوالے سے مجھے ایک پروگرامر کی تلاش تھی۔ میں نے راشد کامران صاحب کی ایپ بلاگ ریڈر  ایپل سٹور پر دیکھی تو میں نے ان سے رابطہ کیا مگر وہ خود دیگر پراجیکٹوں میں مصروف ہیں اس لئے مزید کوئی کام آگے نہ بڑھا۔ ابھی بھی تلاش میں ہوں کہ کوئی صاحب مل جائیں تو ان سے ایگریمنٹ کرکے اس پراجیکٹ کو آگے بڑھایا جائے۔ اب تو ماشاء اللہ نسخِ ہندی والا قرآن پاک بھی آن لائن ہوچکا سو میرا دل پھولے نہیں سما رہا۔ اللہ کرے کہ خدمتِ قرآن کے لئے جتنے بھی منصوبے میرے ذہن میں ہیں وہ وجود میں آئیں۔ اپنی سی کوشش کرتے رہیں گے۔ رنگ بھرنے کا رنگ اللہ کا ہے۔ سو اسی سے ملتجی ہوں۔ اس سلسلے آپ کے ذہن میں کوئی شخص یا کوئی آئیڈیا ہو تو از راہِ عنایت یہاں ضرور شئیر کریں۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
راسخ کشمیری ۔ مدینہ منورہ

Popularity: 64%

چپکے چپکے تنہا تنہا

April 1st, 2010

غم کی چادر اوڑھے رکھنا، چپکے چپکے تنہا تنہا
سارے جگ کی دردیں سہنا، چپکے چپکے تنہا تنہا
وقت آنے پر سب منہ موڑیں، ملنا جلنا ناطہ توڑیں
اپنا مقدر ٹھہرا رونا، چپکے چپکے تنہا تنہا
جل دینے والے اکثر ہیں، گل دینے والے کم ہیں لوگ
زیست ہے مثلِ شمعہ جلنا، چپکے چپکے تنہا تنہا
خلقت ساری غم میں غلطاں، اور سیاست والے رقصاں
خلقت کا ہے جینا مرنا، چپکے چپکے تنہا تنہا
اس دنیا میں خاموشی سے رہنے میں ہی عافیت ہے
بات مری تم سمجھو سجنا، چپکے چپکے تنہا تنہا
چپکے چپکے تنہا تنہا، انساں دنیا میں آتا ہے
اک دن یوں ہی واپس جانا، چپکے چپکے تنہا تنہا
میری دعا ہے راسخ رب سے، میرے مقدر میں لکھ دے رب
شام وسحر بس قرآں پڑھنا، چپکے چپکے تنہا تنہا

Popularity: 79%

حال اپنے وطن کا Perfect نہیں ہے

March 23rd, 2010

دنیا کی نظر میں  Attract نہیں ہے
حال اپنے وطن کا  Perfect  نہیں ہے
اسلام کا قلعہ ہے ملک ہمارا
اسلام کا پر یاں Impact  نہیں ہے
قرآن وحدیثیں ازبر ہیں سبھی کو
افسوس کہ ان کا Effect نہیں ہے
لڑتے ہیں جھگڑتے ہیں جھوٹ ہے عادت
لوگوں میں ہے دوریContact  نہیں ہے
نفرت کے جفا کے پڑھتے ہیں مضامین
چاہت کا اخوت کا  Subject نہیں ہے
خدمت ہے سیاست کھلواڑ نہیں یہ
دھوکے کی سیاست  Accept نہیں ہے
خلقت پہ قوانیں لاگو ہیں بہت سے
خلقت سے بھلے کا پر Act نہیں ہے
ہو لیگ (عوامی) یا (قاف) کی ہو لیگ
لوٹے ہیں سبھی کیا یہ  Fact  نہیں ہے؟
کرتا ہے جو نفرت اپنوں سے اے راسخ
وہ شخص قابلِ Respect نہیں ہے
سوموار 22 مارچ 2010۔ مدینہ منورہ۔ قرآن کمپلکس

Popularity: 32%

شغل پرائز

October 10th, 2009

 ObamaNobel

نوبل پرائز کو “شغل پرائز” کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ کیونکہ اوباما کی امن کی خونخوار کاوشوں کے بدلے یہ شغل دنیا کے سامنے مچایا گیا۔ سوچتا ہوں اوباما نے کیا  کیا ہے جو اسے یہ پرائز ملا ہے؟ کیا اس لئے ملا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملے ابھی تک اوباما نے جاری رکھے ہوئے ہیں؟ یا اس لئے کہ وہ ایک دو خطابوں کے ذریعہ مسلم امہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے آئے تھے؟ یا اس لئے کہ اسرائیل کی جنگی جنونی کیفیت کے سامنے اوباما کچھ نہیں کر پا رہے؟

لوگ ہزار کہیں کہ ایک کالے کا امریکہ کا صدر بننا معجزہ ہے میں اس بات کو روزِ اول سے ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اوباما کو دنیا کے سامنے لاکر پیش کیا گیا ہے۔ اسکا بڑا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ مسلمت امت کے دل میں جو امریکہ کے لئے نفرت ہے اسے کم کیا جائے۔ لیکن ایسا کبھی ہو نہیں سکتا۔ مسلمانوں کو امریکہ نے وہ زخم دئیے ہیں جنہیں مندمل ہوتے بہت عرصہ لگے گا۔ بلکہ شاید ہی مندمل ہوں۔

بحیثیت قوم ہمیں امریکہ سے نفرت نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ ہمیں ان مٹھی بھر لوگوں سے سخت نفرت ہے جو اپنے مفادات کے خاطر دنیا کہ امن وامان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیوں ہر طرف مسلمانوں پر ہی نزلہ گرا ہوا ہے۔ پاکستان عراق افغانستان کشمیر ودیگر مسلم ممالک ہی کیوں آگ کی لپیٹ میں ہیں؟ امریکہ اور مغربی ممالک کو اپنی شر پسندانہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی ورنہ ایک وقت آئے گا کہ مسلمانوں کا ہاتھ اور انکا گریبان ہوگا۔ اور میں اسلام کی سماحت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت بھی مسلمان اس وحشت کے ساتھ اپنے دشمن کے ساتھ بھی پیش نہیں آئیں گے۔ مسلمانوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔

Popularity: 100%

طمانچہ

October 9th, 2009

NWP

امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے آج ایکسپریس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیری لوگر بل اگر پاکستانی پارلیمنٹ میں پاس نہ ہوا تو یہ ایک طمانچہ ہوگا۔ پاکستان کی غیور قیوم پہلے ہی اس کشکول کو مسترد کرچکی ہے۔ پارلیمنٹ کو بھے چاہئے کہ یہ بل مسترد کرکے غیرت کا ثبوت دیں اور جو طمانچہ امریکی سفیر نے کہا وہ امریکا کہ منہ پر دے ماریں۔ ویسی بھی اہلِ انجیل کا کہنا ہے کہ اگر آپ کوکوئی ایک تھپڑ مارتا ہے تو دوسری گال بھی اس کے آگے کردیں۔ تمنا ہے ایسا ہی ہو۔ ہمیں امریکہ سے تعلقات رکھنے کی اگر ضرورت ہے تو ضرور رکھیں پر یہ تعلقات برابری کی بنیاد پر ہوں۔ غلامی کسی صورت پاکستانی عوام کو قابلِ قبول نہیں۔

ہمارے حکمرانوں سے تو خدا ہی پوچھے کہ وہ ایسے بھیک کیوں مانگ رہے ہیں۔ صدر زرداری اور اس کے حواریوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ڈالروں کی زرق برق دیکھ کر دین ایمان وطن کھونے کے لئے تیار ہیں۔ حسین حقانی صاحب تو ہمارے سفیر ہی نہیں لگتے۔ وہ اکثر باتوں میں امریکہ کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ یار ہوس کی بھے انتہا ہوتی ہے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ عدلیہ اور فوج کو مداخلت سے روکنے کی شق زرداری صاحب اور انکی حواریوں کا کارنامہ ہے جو بیکار نامہ ثابت ہو رہا ہے۔ فوج نے اس بل کی مخالفت کرکے عوام کی نمائندگی کی ہے۔ اور جمہوریت والے اسے مداخلت قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ امریکہ اپنی چھاؤنیاں پاکستان میں تعمیر کر رہا ہے اور جمہوریت والوں کو کچھ نظر نہیں آ رہا۔ اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت عطا کرے۔ آمین۔

Popularity: 29%

نستعلیق بلاگ پر انعامی مقابلے کا اعلان۔

October 8th, 2009

Nastaleeq-Cir

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک مقابلے کی تجویز دی تھی۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے اور عملی جامہ پہناتے ہوئے مقابلے کا اعلان کرتا ہوں۔

چونکہ یہ بلاگ قرآن پاک اور خطِ نستعلیق کی خدمت اور ارتقائی اسباب کے لئے لکھا گیا ہے اس لئے اس مقابلے کی ابتدا قرآن پاک اور خطِ نستعلیق کے مواضیع سے ہی کرنا ضروری ہے۔ سوچ بچار کے بعد مجھے مناسب معلوم ہو رہا ہے کہ درجِ ذیل مضمون پر احباب کو لکھنے کی دعوت دوں:

1- خطِ نستعلیق:
خطِ نستعلیق کے موجد کے متعلق لکھیں۔ نیز خطِ نستعلیق کا ارتقائی مرحلہ بھی محورِ موضوع بنائیں۔ایک شق خطِ نستعلیق کی یونیکوڈ فونٹس کے بارے میں بھی لکھ سکتے ہیں۔ خطِ نستعلیق کو یونیکوڈ خط بنانے میں کیا مشکلات پیش آ رہی ہیں؟ اس حوالے سے آپ اپنی رائے بھی موضوع میں شامل کرسکتے ہیں۔

 اپنے کام کو ایک علمی کام ثابت کریں۔ اور جن حوالہ جات سے چاہے وہ کتابی شکل میں ہوں یا انٹرنیٹ پر ہوں ان کا حوالہ ضرور دیں۔ میں اس موضوع کے آخر میں ایک فائل منسلک کروں گا۔ ورڈ کی اس فائل کو اتار لیں اور اپنا مضمون اسی فائل میں لکھیں۔ اس فائل میں میں لکھنے کا طریقہ بھی تحریر ہوگا۔
 

انعامات وہدایات

  • انعامات کے متعلق ہم ابتدائی طور پر درجِ ذیل انعامات رکھ رہے ہیں:
    1- ایک کلو عجوہ کھجور جو ایک خوبصورت پیک میں ہوگی۔
    2- ایک عدد قرآن پاک جو کنگ فہد قرآن پرنٹنگ پریس سے طبع شدہ ہوگا۔
    3- ایک عدد جائے نماز۔
    4- ایک عدد تسبیح۔
    5- ایک عدد ٹوپی۔
    6- ایک عدد عطر۔

1- یہ سب چیزیں مدینہ منورہ سے ارسال کی جائیں گی۔ ابتدا کے طور پر ہم یہ انعامات رکھ رہے ہیں۔ جبکہ مستقبل میں لوگوں کی تعداد اور شوق دیکھ کر مقابلے کے طریقہ کار اور مزیدقیمتی  انعامات شامل کئے جاسکتے ہیں۔

2- انعام کی حقدار اگر خاتون ہوئیں تو پانچویں اور چھٹی چیز کے بدلے میں کوئی مناسب سی چیز ہوگی۔

3- فی الحال اس مقابلے میں انعام کا حقدار ایک شخص ہوگا۔ اس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ مضامین وصول کرنے کے بعد شاکر القادری صاحب اور تفسیر صاحب کو ارسال کریں گے۔ اور باتفاق جو مضمون بہترین مضمون قرار پائے گا اسے انعام ارسال کردیا جائے گا۔

4- کوئی بھی موضوع لکھتے وقت کسی بھی مسلک پر طعن وتشنیع سے گریز کریں۔ دیگر مذاہب کے متعلق لکھتے ہوئے علمی انداز اور طور طریقے سے کام لیں کہ ہمارا مقصد تعمیری ہے تخریبی نہیں۔

5- اگر آپ کو کوئی بات اہل سنت والجماعت کے عقیدے کے منافی معلوم ہوتی ہے اور اسے اجاگر کرنا چاہتے ہیں تو اسے بھی دلائل کے ساتھ علمی انداز میں پیش کریں۔

6- اہل سنت والجماعت کے لفظ کو وسیع معنوں میں لیں اور اسے کسی مخصوص مسلک کے ساتھ منسلک نہ سمجھیں۔اس حوالے سے پاکستان میں کسی مخصوص مسلک کے ساتھ منسلک سمجھا جاتا ہے جبکہ اسکا معنی وسعت مانگتا ہے۔

7- مضمون کم از کم 1000 الفاظ پر مشتمل ہو۔ اس سے کم قابلِ قبول نہ ہوگا۔ جبکہ زیادہ الفاظ آپ کی علمی قابلیت کی دلیل ہوگی۔

8- مقابلہ ختم ہونے پر ہم سب مضامین نشر کریں گے اور انعام یافتہ مضمون کو دیگر مضامین کے سامنے رکھ کر موازنہ کریں گے اور بتلائیں گے کہ کن وجوہات کی بنا پر ہم نے اس مضمون کو انعام کا حقدار ٹھہرایا۔ اور اس عمل کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ لکھنےوالے احباب ان چیزوں کا خیال رکھیں گے۔اس عمل سے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور علمی تحصیل میں اضافہ ہوگا۔نیز کسی کو اعتراض بھی نہ ہوگا کہ اس مقابلے میں کسی کی طرفداری کی گئی ہے۔

9- لکھنے والے احباب اپنا نام اور ایمیل نیز فون نمبر ایمیل کریں ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی لکھیں کہ فلاں مضمون پر لکھنے کا ارادہ ہے۔

10- 31 اکتوبر 2009 تک آپ اپنے کوائف اس ایمیل پر ارسال کرسکتے ہیں raasikh@gmail.com۔

11- مضامین وصول کرنے کی آخری تاریخ  30 نومبر 2009 ہوگی۔

12- اس مقابلے کے متعلق اگر آپ اپنے بلاگ پر لکھیں گے تو ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے۔ کہ یہ اجر وخیر کا کام ہے اور خیر پر دلالت کرنے والا خیر کرنے والے کے برابر اجر وثواب کا خدا باری تعالی سے مستحق ہوگا۔

13- اس حوالے سے اگر آپ کے پاس کوئی تجویز یا مشورہ ہے تو ضروری پیش کریں۔ تمام مندرجہ بالا باتیں حتمی باتیں نہیں۔ مناسب تجاویز سامنے آنے پر رد وبدل کا امکان موجود ہے۔

14- آپ سب کے لئے دعا گو ہوں خدا  مجھے اور آپ کو خدمتِ قرآن کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

فائل یہاں سے اتاریں

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مدینہ شریف
راسخ کشمیری

Popularity: 61%

قادیانیت، قادیانیوں کے مشہور انگلش تراجم

October 8th, 2009

qadiyaniyat.jpg

قادیانیت کے حوالے سے گزشتہ عرصہ بلاگرز کے درمیان کافی لے دے ہوئی ۔ خبروں میں بھی قادیانیت کا تذکرہ ہوتا رہا۔ جناب خود ساختہ جلا وطن (MQM) کے قائدِ ابدی الطاف حسین صاحب نے بھی اس مسئلہ میں بس یونہی ٹانگ اڑائی تو علمائے کرام نے اس ٹانگ کو اپنے قبضے میں اس طرح لیا کہ ٹانگ چھڑانے کے لئے انہیں دوسرا بیان دینا پڑا۔بات یہ ہے کہ ہر کوئی ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کرے گا تو اسکے ساتھ ایسے ہی ہوگا۔ قادیانیوں کے کفر واسلام کا مسئلہ علماء کے درمیان مسئلہ ہے الطاف صاحب ان باتوں سے دور رہیں تو امید ہے اپنی پارٹی کو بہتر طور طریقے پر چلا سکیں گے ورنہ ان کے لئے مشکلات پے درپے آتی رہیں گی۔

***

اس حوالے سے پنجابی فلموں کے ہیرو گورنرِ پنجاب  سلمان تاثیر بھی  توہینِ ختم نبوت کے قانون پر اپنی بے صبری نہ چھپا سکے بلکہ وہی معاندانہ رویہ اختیار کئے ہوئے غلط بیان دیا۔ انہیں بھی تردیدی بیان جاری کرنا پڑا۔  کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ قانون در اصل توہین کے مرتکب آدمی کو کچھ تحفظ اس لئے دیتا ہے کہ کم سے کم اگر پکڑ لیا جائے تو عوام اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جبکہ ختم کرنے کی صورت میں عوام مزید ہوشیار ہوجائے گی۔۔۔ اور دمادم مست قلندر ہوگا۔ ویسے بھی اس معاملے پر ہم لوگ بیحد جذباتی ہیں، کریں بھی کیا کہ یہ معاملہ ہے ہی اتنا حساس۔ ويسے جو واقعتا توہین کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ  برا ہی ہونا چاہئے کیونکہ ہم لوگ اپنی ماں بہن کو دی گئی گالی برداشت نہیں کرتے اور قتل پر تل آتے ہیں تو یہ تو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ ہے کہ جن کی محبت سے ہمارے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور اس محبت کا اندازہ ایک غیور مسلمان ہی لگا سکتا ہے۔ ورنہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو مغربی افکار سے آلودہ ذہن لیکر اپنے معاشرے میں تہذیب وتمدن کی لن ترانیاں گاتے نظر آتے ہیں۔۔۔ کیا انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام پر دشنام طرازی تہذیبی عمل ہے؟  اگر نہیں تو اس کا دفاع کرنا بھی ایک غیر مہذب عمل ہے۔ البتہ قانون کی بالادستی ہونی چاہئے تاکہ کوئی شخص ذاتی رنجش کی بنیاد پر اس قانون کا غلط استعمال نہ کرے۔

***

ویسے آج تک جتنے بھی اس حوالے سے واقعے سامنے آئیں ہیں اربابِ معرفت کا کہنا ہے یہ ایجنسیوں کا کھیل ہے جو اس ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتی ہیں۔ملک دشمن عناصر کو یہاں امن وامان ایک آنکھ نہیں بھاتا۔  اور یہ بات بالکل بعید نہیں کیونکہ ہم لوگ جو پاکستان میں رہتے ہیں کبھی ہم نے اپنے غیر مسلم کو دزدیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھا۔ بلکہ اسکا  اتنا ہی احترام کیا جاتا ہے جتنا عام انسان کا۔ مذہبی اختلافات کے باوجود قتل وغارت گری تک بات نہیں پہنچتی۔ ہمارے ہاں کتنے گرجہ گھر ہیں کبھی بھی کسی مسلمان نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ جب بھی باتیں سامنے آتی ہیں تو اس میں باہر والوں – خدا انہیں غارت کرے- کا ہاتھ ہوتا ہے۔

***

میں نے یہ موضوع قادیانیوں کے قرآنی تراجم پر گفتگو کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔ لیکن بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ میں  یہ موضوع قادیانیوں کے تراجم کی تشہیر کے لئے نہیں لکھ رہا بلکہ ان دوست واحباب کی انتباہ کے لئے لکھ رہا ہوں کہ ان تراجم کو پڑھتے وقت یہ  معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ترجمہ کس کا ترجمہ پڑھا جا رہا ہے۔ بصورتِ دیگر جن لوگوں کو مذہبی اختلاف کا علم نہیں ہوتا بعض دفعہ وہ عقیدے کی کشمکش میں پڑ کر اپنا دین ایمان کھو بیٹھتے ہیں۔  عقیدہ اور ایمان ہی ہے جو انسان کو سرخرو کر سکتا ہے ورنہ کفر وشک میں پڑ کر نور سے محروم اور نار کا مستحق بناتا ہے۔ خدا ہمارے دین ایمان کو محفوظ کرے۔ اور راہِ حق پر تادمِ آخر رکھے۔ آمین ثم آمین۔

***

میرے سامنے ڈاکٹر وجیہ بن عبد الرحمن کی ایک بحث موسوم بعنوان (معانئ قرآن کریم کے انگلش تراجم میزانِ اسلام میں) عربی میں موجود ہے۔ جو قرآن پرنٹنگ پریس میں چھپی ہے۔  میں اس بحث کا مکمل ترجمہ تو نہیں کر رہا بلکہ پڑھ کر اس میں چند باتیں جو قادیانیت کے متعلیق ہیں شئیر کر رہا ہوں:
ڈاکٹر صابر طعیمہ اپنی کتاب (باطنی عقائد پر اسلام کا حکم) صفحہ 372 سے لیکر 400 تک اس بحث کو چھیڑتے ہوئے  کہتے ہیں کہ جب انگریز ہندوستان پر حملہ آور ہوئے اور مغلوں کی سولہویں صدی میں بنائی گئی تیموری سلطنت روبہ زوال ہوئی تو انگریزوں نے اپنے آپ کو 50 ملین مسلمانوں کو اپنے مقابل پایا ۔ اور اس بات کا انہیں ادراک تھا کہ مسلمانوں کا مقابلہ اتنا آسان کام نہیں۔ اور یہ بات بھی نہیں کہ مسلمانوں کے حالات بہتر تھے۔ بلکہ فقر وفاقے کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

***

آنا فانا قادیانی تحریک قادیان سے شروع ہوئی ۔  ابو الحسن الندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بتدریج اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کیا پہلے اپنے آپ کو مسیحِ موعود ثابت کرنے کی کوشش کی پھر نبوت بلکہ نبوت سے بھی اعلی کا دعوی کر ڈالا ۔ مرزا کی کتابیں براہینِ احمدیہ اور ازالۂ اوہام کے مطالعہ کرنے  سے یہ بات بالکل عیاں ہوجاتی ہے۔کہ اس میں مرزا نے الہام اور علم باطنی اور علم یقینی کو ایط طبعی منزل قرار دیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت اور ان میں فناء ہونے سے حاصل ہوسکتی ہے۔پھر مرزا بغیر (نبوت) لفظ کی تصریح کے نبوت کے خصائص کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان خصائص کا پانا تبعیت اور وساطت سے ممکن ہے۔

***

1900؁  میں عبد الکریم نامی شخص نے خطبۂ جمعہ میں کہہ ڈالا کہ مرزا غلام احمد اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور ان پر ایمان لانا واجب ہے۔ اور انبیاء پر ایمان لاتا ہے اور مرزا پر نہیں لاتا وہ رسولوں کے درمیان تفریق کا مرتکب ہوتا ہے۔

***

قادیانیوں کے اعتقادات میں سے یہ ہے کہ عیسی علیہ السلام اپنی ظاہری موت کے بعد کشمیر کی طرف ہجرت کرگئے تاکہ انجیل کی تعالیم وہاں پر پھیلاسکیں ۔ 120 کی عمر میں وفات پائی اور کشمیر ہی میں دفن ہوئے۔  پھر مرزا نے اس بات کا بھی دعوی کیا کہ وہ مہدی اور عیسی اور محمد علیہم الصلاۃ والسلام ان میں حلول ہیں۔اسی طرح قادیانیوں کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ مرزا غلام احمد مہدی بھی ہے اور نبی بھی۔  قادیانیوں کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ قرآن پاک جو معجزات بتلاتا ہے وہ مجازی اور رمزی تعبیرات ہیں۔

***

قادیانیوں کے مشہور انگلش تراجم

قادیانیوں کے مشہور انگلش تراجم درجِ ذیل ہیں:
1. محمد علی لاہوری کا ترجمہ۔
2. غلام فرید کا ترجمہ۔
3. ظفر اللہ خان کا ترجمہ۔
4. خواجہ کمال الدین کا A Running Commentary on the Holy Quran ترجمہ۔ یہ لندن  1948 میں طبع ہوا۔  اس ترجمہ میں مصنف نے قرآنی آیات کی بعید از قیاس تاویلات کی ہیں۔ مثال کے طور (دخان) یعنی دھواں کے متعلق لکھا ہے کہ اس سے مراد ریل انجن کا دھواں ہے۔

محمد علی لاہوری کا ترجمہ

1916 میں قرآنِ مجید کے نام سے یہ ترجمہ انگلینڈ میں ظاہر ہوا۔ اس وقت چونکہ مسلمانوں کے اوساط میں ابھی کوئی  انگریزی مقبول ترجمہ ظاہر نہیں ہوا تھا تو اس ترجمے کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔  عبد اللہ یوسف علی اور بکثال کے ترجمے سے قبل اسے مسلمانوں کا ترجمہ تصور کیا جاتا تھا۔  اس ترجمہ میں جو عقائدی غلطیاں ہیں وہ صریح ہیں مثال کے طور عیسی علیہ السلام کی موت کا قول ہےتاکہ مرزا قادیانی کی نبوت کو سچ ثابت کیا جاسکے۔ اسی طرح فرشتوں کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالی  کی خیر کی ارادی قوت کی تمثیل ہے۔ جبکہ جن شر کی مجازی تعبیر ہے۔ اسی طرح جنت کو اللہ تعالی کی رضا کی معنوی تجسید گردانا گیا ہے۔ اور دوزخ کو اللہ تعالی کی ناراضگی کی معنوی تجسید لکھا گیا ہے۔اور تمام معجزات کا  سرے سے ہی انکار کیا گیا ہے۔

***

ظفر اللہ خان  کا ترجمہ

1371 ہجری میں یہ ترجمہ لندن میں  The Quran نام کے تحت شائع کیا گیا۔  اس میں معجزات کی غلط تاویل کی گئی۔ نیز جنات کے وجود کا انکار کیا گیا۔ اور یہ لکھا گیا کہ یہ انسان کا ہی ایک Aristocratic Group ہے جو عوام الناس کے ساتھ نہیں رہتا۔ اسی طرح شیطان کو نفسِ امارہ  بالسوء کی مجازی تعبیر گردانا گیا ہے۔

قادیانیت کے متعلق کتابوں کے مطالعہ کے لئے اس ربط پر تشریف لے جائیں۔

Popularity: 68%

قرآن پاک اور خطِ نستعلیق کے حوالے سے مقابلے کی تجویز

September 30th, 2009

بسم اللہ الرحمن الرحیم

Quran_Nastaleeq

نستعلیق بلاگ کو آن لائن کرنے میں جو کارفرما عوامل ہیں ان میں سب سے بڑی صرف اور صرف دو باتیں ہیں اور وہ ہیں طباعتِ قرآن پاک اور خطِ نستعلیق کی خدمت کرنا۔ اس حوالے میں اپنی تقصیر کا معترف ہوں۔ اور میں یہ بوسیدہ عذر پیش کرکے کہ میرے پاس وقت کم ہے اس پراجیکٹ کو دھچکا نہیں لگانا چاہتا کہ میری زندگی کے یہ دو اہم ہدف ہیں۔ اگر میں خود ہی ہمت نہیں کروں گا تو مخلص دوست واحباب بھی میسر نہ ہوں گے۔

***

ستعلیق بلاگ پر دوست احباب تشریف لاتے ہوں گے لیکن کم ہی تبصرے ملتے ہیں اس لئے اندازہ نہیں ہوپاتا کہ دوست احباب اس بلاگ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ بہر کیف اس امر میں بھی میں اپنے آپ کو ہی کوس سکتا ہوں۔

***

ہماری اردو بلاگنگ ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس کو ارتقائی مرحلے میں داخل کرنا ایک چیلنج ہے اور میں اس بات سے بیحد خوش ہوں کہ احباب متحد ہوکر یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے منظر نامہ کا وجود آکسیجن کا کردار ادا کر رہا ہے۔ہفتہ بلاگستان بڑا زبردست کارنامہ ہے۔ خدا کرے اردو کا یہ کارواں پھلتا پھولتا اور منزل کی طرف چلتا رہے۔ آمین۔

***

چونکہ یہ بلاگ در اصل قرآن پاک اور نستعلیق خط کے لئے ہے اس لئے میں کئی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ کس طرح اس بلاگ کے ذریعہ مطلوبہ اہداف حاصل کرنے چاہئیں۔مکرم شاکر القادری صاحب سے مشورہ کیا کہ قرآن شریف اور نستعلیقی موضوعات کے حوالے سے مقابلہ کا اعلان کیا جائے وہ اس طرح کہ ایک موضوع دیا جائے اور دوستوں کو اس پر تحقیقی مقالہ لکھنے کو کہا جائے۔ اور جس شخص کا سب سے بہترین مقالہ ہوگا اسے بطورِ انعام مدینہ منورہ سے کوئی تحفے تحائف بھیجیں جائیں۔ اس حوالے سے شاکر القادری صاحب نے تو میری ہمت افزائی کی ہے اب آپ دوست احباب اس حوالے سے کیا کہتے ہیں وہ معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے آپ لوگوں کی طرف سے بھی مثبت جواب ملے گا۔

***

قرآن پاک کا کام میں تو ذریعۂ نجات سمجھ کر کر رہا ہوں۔ جبکہ نستعلیق کا کام بھی بیحد اہمیت کا حامل ہے ۔ ان شاء اللہ کسی مناسب موقع پر دونوں پراجیکٹ کی تفصیلات آپ احباب کے سامنے پیش کروں گا۔ اور جو جو احباب ان دونوں کاموں کے لئے میدان میں آنا چاہیں مطلع کریں کہ میری بھی ہمت بندھے اور ایک پلان کے تحت ہم سب اکٹھے رفتہ رفتہ منزل تک سفر کرسکیں۔ (ان شاء اللہ)۔

والسلام علیکم
راسخ کشمیری۔ مدینہ شریف۔ 30 ستمبر 2009۔ بدھ

Popularity: 68%

خدا تمہیں غریقِ رحمت کرے۔۔

September 26th, 2009

Rose

کس باغ میں آسیب خزاں آ نہیں جاتا
گل کونسا کھلتا ہے جو مرجھا نہیں جاتا

***

کون سا جھونکا بجھا دے گا کسے معلوم ہے
زندگی اک شمع روشن ہے ہوا کے سامنے

***

میری نانی  (حمیدہ خانم) ر اہِ حق سدھار گئیں۔ انکی مقدار محبت کو لفظوں میں لانا ممکن نہیں۔ میرے ساتھ وہ کتنی محبت کرتی تھیں وہ میں ہی محسوس کرسکتا ہوں۔ انکی محبت کو لفظوں کا پیرہن نہیں پہنا سکتا۔ خدا ان کی قبر پر رحمتیں برسائے اور سوال کے وقت ثابت قدمی عطا کرے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

***

بہتر (72) سال کی تھیں اور زندگی کے نشیب وفراز میں بہت سارے صدمے جھیلے۔ جس وقت ہندوستان کی زمین پاکستان کو جنم دینے کے لئے دردِ زہ میں مبتلا تھی اس وقت وہ جڑانوالہ اور فیصل آباد میں ہوتی تھیں ۔ ہندو مسلم لڑائی دیکھی اور بہت سارے اندوہناک منظر صفحۂ خیال میں محفوظ کئے۔ جوان ہوئیں تو نانا (خواجہ محمد صادق) کے عقد نکاح میں آئیں۔ ہمیں نانی بتایا کرتی تھیں کہ ہمارے نانا جی سیاست میں بھرپور حصہ لیا کرتے تھے۔ 2003 میں جب پاکستان جانا ہوا تو نانا جی کے ایک معمر دوست سے ملاقات ہوئی وہ ان کو یاد کیا کرتے تھے اور محلے میں جسے جس چیز کی ضرورت پڑتی اسے پورا کرنے کے لئے آگے آگے ہوتے۔

***

نانی بتاتی ہیں کہ ہمارے نانا محترم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھ بھی ہوا کرتے تھے اور ان کے ساتھ کئی مرتبہ جیل کے ہوا بھی کاٹی۔۔۔ اس خدا ترس بندے کی کہانی بہت عجیب تھی لوگوں سے محبت کرنے والا اپنوں کی نفرتوں کا شکار ہوا۔ تجارتی غرض سے نکلے ہوئے نانا جی کراچی گئے اور پلٹ کا گھر نہ آئے۔ انکے ڈائری اور ایک خط گھر کے پتے پر ضرور پہنچا۔ شنید ہے کہ اس سارے معاملے میں ان کے چھوٹے بھائی کا ہاتھ تھا۔ اور وجہ یقینا پیسہ ہی ہوگی۔ کہ لالچ بڑی بری بلا ہے۔

***

32 سال سے زیادہ عرصہ سے میرے نانا جی لاپتہ ہیں۔ اور میری نانی مرحومہ نے یہ عرصہ بڑے صبر وتحمل سے گزارا۔ اس تہجد گزار عورت نے صبر ومحبت کی اعلی مثالیں قائم کیں۔ انکا منور چہرہ میری آنکھوں میں سمایا ہوا ہے۔ انکی محبت میرے وجود میں تحلیل ہے۔ مدینہ منورہ میں بھی کئی سال گزارے پھر پاکستان چلی گئیں اور اب آخری مرتبہ چند ماہ پہلے مدینہ منورہ تشریف لائیں بہت کمزور ہوچکی تھیں۔ کمزور کیوں نہ ہوتیں زمانے کے بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتی اٹھاتی آخر کار تھک ہار کر جوارِ رحمت میں جگہ پالی (ان شاء اللہ)۔ آپ دوستوں سے یہ باتیں اس لئے شئیر کیں کہ جب بھی یہاں سے آپ کا گزر ہو میری نانا نانی اور دادا دادی کے لئے ضرور دعائے مغفرت کردیں۔ اور ہوسکے تو فاتحہ پڑھ کر بخش دیں۔ اللہ تعالی آپ کو اجر جزیل عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مدینہ شریف
26 ستمبر 2009

Popularity: 40%