لرزیدہ لمحوں کا تاوان۔۔

ٹیلیفون کی گھنٹی کی آواز کمرے کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ وہ یکسوئی سے اپنے مشاغل میں منہمک تھا۔ گھنٹی کی آواز اس پرگراں گزر رہی تھی لیکن فون کرنے والے نے شاید قسم کھا لی تھی۔ وہ بادل ناخواستہ اٹھا۔ پلنگ سے میز تک کا فاصلہ پاٹنا اسے عذاب لگ رہا تھا۔ اس کے دونوں گھٹنوں میں کئی روز سے پرانا درد عود کر آیا تھا جب تلک اس نے فاصلہ سمیٹا فون خاموش ہو گیا۔ میز کے کونے پر ہتھیلی ٹکا کر اس نے اپنے بھاری بھرکم وجود کو سہارا دیا۔ فربہی سے اس کا سانس بھی پھولنے لگا تھا۔ اسے یقین تھا گھنٹی دوبارہ بجے گی۔ سانس درست کرتے ہوئے وہ سوچنے لگا۔ یہ وہی خاتون نہ ہو جس کا چند روز پہلے فون آیا تھا۔ آواز غیر مانوس تھی۔ لہجے کے بارے وہ فیصلہ نہیں کر پایا تھا۔ لیکن عجیب چلبلا پن تھا آواز میں…
میں پوچھ سکتا ہوں محترمہ آپ کون ہیں؟
مجھے اتنی جلد فراموش کر دیا۔
خاتون مجھے یہ تو بتائیے آپ ہیں کون؟ آپ نے شاید غلط نمبر ڈائل کیا ہے۔
یہ نمبر وہی ہے جو میں نے ڈائل کرنا تھا اور کیا ہے۔
کام بتائیے !
کیا میں آج بھی تمہارے من میں بسی ہوں۔
خاتون! من میں تو ایک دنیا آباد ہے آپ اپنا تعارف تو کرا دیجئے۔
لیکن میں دنیا نہیں ہوں۔
مجھے بالکل یاد نہیں آرہا ہم عمر کے کس حصے میں متعارف ہوئے تھے۔
مجھے یاد ہے۔ میں نے بچپن کے گڈیوں پٹولوں کے ساتھ یادیں بھی سنبھال رکھی ہیں۔
خاتون میری عمر پینسٹھ برس سے متجاوز ہے میں ایک ریٹائرڈ زندگی جی رہا ہوں۔
زندگی سے تو ابھی آپ ریٹائر نہیں ہوئے پھر ریٹائرڈ زندگی چہ معنی دارد۔
محترمہ! اس عمر میں میرا چین مجھ سے نہ چھینیں۔
میں تو چین تمہیں لوٹانے آئی ہوں۔
تعارف تو کرا دو…
میں صرف تمہاری ہوں۔
میں تمہاری بات سے اتفاق نہیں کر پاؤں گا۔
تم نے بچپن میں مجھ سے کب اتفاق کیا تھا … مزاج تو نہیں بدلتے نا …!
ٹرن ٹرن ن ن ٹرن ن ن …
بدن کو میز کے کونے اور ہتھیلی نے سہارے رکھا …
ہیلو …
فون اٹھانے میں اتنی دیر کیوں کر دیتے ہو۔
جوڑوں کا مریض ہوں۔
میں مریضِ محبت ہوں۔ غم اور محبت کے مفاہیم تم پر کبھی نہ کھلے۔ میں نے راکھ ہو کر زندگی گزاری ہے۔ تم نے کبھی پلٹ کر خبر ہی نہ لی۔ مجھ سے پوچھو… نا میں نے عمر کیسے کاٹی؟ عورت کے بارے جانے کب کہاں اور کس نے یہ جملہ کہا کہ وہ زندگی میں ایک بار پیار کرتی ہے۔ تمہارے بعد میں نے چار پانچ عشق کیے۔ صرف تمہیں بھلانے کے لیے۔ اس سے پہلے کہ تم مجھے ٹوک کر سوال کرو کہ عشق کوئی کاروبار تھا۔ جو میں نے چار پانچ بار کیا۔ یہ تجربہ میں نے صرف اس لیے ضروری سمجھا کہ شادی کے بعد میں نے اپنا بدن خاوند کو سونپ دیا۔ شکر ہے اس کی سوچ ہی نرم و گداز گورا چٹا بدن حاصل کرنے تک تھی۔ وہ میرے من میں سوئی ہوئی عورت کونہ جگا سکا اور بدن سے لذت کشید کر کے خوش ہوتا رہا۔ میں مشین کی طرح بچے جنتی چلی گئی۔ سات بچوں میں سے چار اللہ نے سنبھال لیے تین کو میں نے پال نکالا۔ میرا خیال تھا شادی کے بعد میں تمہیں یکسر فراموش کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گی۔ بچوں میں کھو جاؤں گی۔ جب مجھے تیری یاد نے بے کل کیا تو میں نے ایک ایسے شخص کی طرف قدم بڑھائے جس کے خدوخال تم سے ملتے تھے لیکن تیری یاد کی خوشبو پھر بھی مجھے کھینچتی رہی۔ کچی عمر کی محبت اتنی پکی ہوگی میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔ تیرے بعد چار پانچ عشق تجھے فراموش کرنے کی سعی لاحاصل ٹھہرے۔
خاتون! آپ نفسیاتی مریض تو نہیں۔
بالکل ہی نہیں۔
دیکھئے خاتون! میری زندگی میں خلل مت ڈالیے۔ اگر آپ کی کہانی سچی ہے تو یقینی طور پر آپ کی زندگی میں ایسا شخص آیا ہوگا لیکن وہ میں ہرگز نہیں۔ آپ مجھ غریب کو معاف رکھیے۔
ہائے … تم نے مجھے واقعی فراموش کر ڈالا۔ تم مرد ہو۔ تم کیا جانو، آگ جو ایک عورت کے من میں سلگتی ہے۔ اس تپش میں جھلستی وہ راکھ ہو جاتی ہے۔ عورت صرف دکھ جھیلنے کے لیے پیدا ہوتی ہے۔ تمہیں میں کیسے یقین دلاؤں شادی ایک الگ بندھن ہے ، روح ایک الگ سوز ہے۔ قصور تو سارا میرا ہے۔ وہ خط مجھے تمہارے ہاتھ میں تھمانا چاہیے تھا۔
کون سا خط … خاتونِ محترم۔
وہی خط جس میں دل، روح، جذبات لپیٹ کر میں نے تمہاری کتاب میں رکھ دیا تھا۔
یا خدا … خاتون آپ مجھے پاگل کر دیں گی۔ اگر آپ کو کسی ایسے شخص کی تلاش ہے جسے آپ فون پر اپنے دکھ سنانے کی خواہش مند ہیں تو کوئی اور دروازہ دیکھئے میں گور کنارے بیٹھا ہوں۔ آج مرے کل دوسرا دن۔ میرے حال پر رحم کریں۔
ظالم … یہ تو پوچھ لیا ہوتا میں نے خط کون سی کتاب میں رکھا تھا؟
اچھا … خاتونِ مکرم … بتائیے کون سی کتاب میں محبت نامہ آپ نے رکھا تھا؟
تم ایف ایس سی میں تھے۔ فزکس کی کتاب میں رکھا تھا میں نے … یاد آیا …؟
خاک یاد آئے گا محترمہ … میں آرٹس کا طالب علم تھا۔
ہائے اللہ … میں مر گئی … وہ میں نے کہیں تمہارے بھائی کی کتاب میں تو نہیں رکھ دیا تھا۔
خاتونِ محترم …
تم جان کہہ کر نہیں پکار سکتے…؟
خاتون … خوفِ خدا یہ عمر ہے میری کسی کو جان کہہ کر پکارنے کی؟
ہائے … ہائے … اس وقت تو تھی نا … جب میں نے خط کتاب میں رکھا تھا۔ میری بدقسمتی، کاش میں نے تمہیں بھلا دیا ہوتا لیکن کیا کیجئے جسے انسان اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر لمحے جاگتی آنکھوں دیکھے اسے کیسے فراموش کیا جائے۔
اس وقت آپ کی عمر کیا تھی …؟
تمہیں خط مل جائے تو عمر بھی جان لو گے۔ ڈھونڈو تو سہی شاید کہیں مل جائے اور مرنے سے پہلے یہ خوشی تو دیکھ لوں کہ میں نے جسے کہا تھا میں صرف تمہاری ہوں، اسے یقین دلا جاؤں …
فون بند ہو گیا … اس نے ریسیور کریڈل پر رکھا۔ لمبی سانس لی۔ چشمہ اٹھا کے آنکھوں پر جمایا اس کی بیوی کو فوت ہوئے دو سال ہوئے تھے۔ دن میں وہ بازار کی مٹر گشت کو جانکلتا تھا اور گھر میں کیبل پر چینل بدلتے ، سگار اور کافی پیتے وقت گزارنا اس کی عادت بن گئی تھی۔ اخبار کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا بھی اس کا مشغلہ تھا۔ اس کے علاوہ اس نے اور کوئی شوق نہیں پالا تھا۔ گھر میں بیٹا اور بہو تھے۔ دونوں سویرے سویرے اپنے کام پر نکل جاتے۔ شام ڈھلے لوٹتے۔ وہ عضوِ معطل کی مانند زندگی گزار رہا تھا۔ اس نے کبھی بیٹے اور بہو کے معاملات میں مداخلت نہیں کی تھی۔ لیکن یہ فون پر اترنے والی افتاد سے وہ پہلے پہل تو بہت گھبرایا۔ پھر اسے خیال آیا۔ یہ بھی وقت گزاری کا اچھا مشغلہ ہے ایک خاتون کی بے مقصد باتیں سن لینے میں حرج ہی کیا ہے لیکن وہ تو کہتی ہے میں نے ایک خط کتاب میں رکھا تھا۔ کیا سچ کہتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے وہ بچپن میں ہمارے گھر کسی تقریب میں آئی ہو، کوئی شادی بیاہ کا موقع ہو۔ یہ بھی امکان ہے وہ عورت سچ مچ دکھی ہو مجھے اس کی گفتگو سنجیدگی سے سمجھنا چاہیے ممکن ہے واقعی وہ مجھ سے محبت کرتی ہو۔ شاید ثبوت مل جائے۔ مجھے اس کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنا چاہیے۔ اسے اپنے اس خیال سے گھن آئی کہ اس خاتون سے باتیں کرنا وقت گزاری کامشغلہ ہے !
(۲)
یہ ایک بازار ہے۔
سورج نکلنے سے پہلے خاکروب جھاڑو لگا کر بازار کی سڑک صاف کر گئے ہیں۔ ابھی بازار نیند سے نہیں جاگا۔ دکانوں کے شٹر بند ہیں۔ دکانوں کے سامنے ریڑھیوں پر کپڑے مڑھے ہیں۔ شام ڈھلنے پر جیسے پرندے گھونسلوں میں لوٹ جاتے ہیں ایسے ہی تھکے ہارے دکاندار، ریڑھی والے ، مزدور سب گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ ریڑھی والے بچی کھچی سبزی، فروٹ اور دیگر اشیاء پر کپڑا باندھ کر جاتے ہیں۔
وہ صبح سویرے بازار آنکلا تھا۔
ریڑھیاں خاموش پڑی تھیں۔ ایک ریڑھی الٹی دھری تھی۔ جوتوں کی دکان کے سامنے کھڑی ریڑھی کو اس نے ایک نظر دیکھا۔ ریڑھی والا ایک سفید ریش شخص ہے۔ اس کی آٹھ بیٹیاں ہیں جو کنواری بیٹھی ہیں۔ بازار کے اس سرے سے اس سرے تک چیتھڑوں میں ملبوس جو شخص سارا دن ہاتھ میں پتھر اٹھائے گھومتا ہے اس کے گھر بھی بھوک پکتی ہے۔ یہ اس روز پاگل ہوا تھا جس روز زکوٰة دینے والوں نے اس کی بیٹی کا جسم اپنی آنکھوں سے ٹٹولا تھا۔ شام ڈھلے کھڑاک کھڑا ک کی آواز سے دکانوں کے شٹر گرتے ہیں۔ ریڑھیاں چپ ہو جاتی ہیں۔ پاگل ایک دکان کے تھڑے پر جسم سمیٹ کر سو جاتا ہے۔ روز بازار جانا اس کے معمولات کا حصہ ہے وہ ایک ریٹائرڈ شخص ہے کیا کرے۔ کبھی وہ آٹے والی چکی پر وقت کو دھکا دینے کی کوشش کرتا ہے، کبھی گول گپے والے کا ایک گول گپا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتا ہے۔ گول گپے والا بھی بابے سے بے تکلف ہے۔ بازار کے بارے میں سوچنا اس کی سائیکی کا حصہ ہے۔ صبح دم بازار انگڑائی لے کر جاگتا ہے۔ انسان رزق کی تلاش میں نکلتا ہے۔ سارا دن ریڑھیوں پر دکھ بکتے ہیں۔ دکھ بیچنے والے اتنا نہیں کما پاتے کہ سکھ خرید سکیں۔
وہ ایک ریڑھی کے پاس رک گیا۔ ریڑھی میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ لکڑی چٹخ چکی تھی۔ کیل زنگ آلود ہو چکے تھے۔ ٹائر جانے کب کے گل چکے تھے۔ ایک مڑے تڑے پہیے کی جگہ اینٹیں جما کر اسے سہارا دیا گیا تھا۔ وہ سوچنے لگا میں بازار سے روزانہ گزرتا ہوں۔ اس ریڑھی میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ میں رک کر اسے دیکھ رہا ہوں یا شاید بازار جاگنے پر ہم توجہ نہیں دے پاتے۔ عمر بھر بازار سے گزرتے رہتے ہیں۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو اس پر ایک خشخشی داڑھی والا بابا سبزی بیچتا تھا۔ شاید وہ گزر گیا اور اب اس کا بیٹا بیٹھتا ہے لیکن ریڑھی کے ساتھ تو میری کوئی یاد وابستہ نہیں۔ وہ خاتون یقینا نفسیاتی مریضہ ہے وہ مجھے بھی پاگل کر دے گی۔ عمر کے اس حصے میں اس کے ساتھ ملاقات بھی ممکن نہیں۔ لٹکتی جلد، جھریوں بھرے چہرے ساتھ کیا اچھا لگوں گا لیکن وہ کیوں کہتی ہے میں صرف تمہاری ہوں۔
یہ جملہ کس نے ادا کیا …؟
نہیں نہیں کسی نے بھی نہیں کہا۔ یہ میرا وہم ہو سکتا ہے۔ ابھی جو میرے من میں مکالماتی جنگ ہو رہی ہے کہیں یہ واہمہ تو نہیں۔ واہمہ …؟ کوئی آواز، خوشبو، جھونکا!، بالکل نہیں۔ لیکن یہ آہٹ کس کی ہے۔ کون ہے جو دبے قدموں میرے دل میں چہل قدمی کر رہا ہے۔ میں اسے پہچان کیوں نہیں پارہا … اگر یہ واقعی میری ہے تو اس نے کب کہاں اعتراف کیا تھا؟ میں ریڑھی کے پاس کیوں رکا ہوں؟ یہ وہی ریڑھی تو نہیں اس نے ایک بار پھر ریڑھی کو غور سے دیکھا۔ بازار میں سبزی اور فروٹ کی بولی لگنے سے بیشتر انہیں ڈھیریوں کی شکل میں سجایا جارہا تھا۔ مختلف اشخاص تھڑوں اور ان ڈھیریوں کے درمیان ہاتھ لہرا لہرا کر بولیاں الاپ رہے تھے۔ اسے اپنے اندر چند روز قبل کے فون کی آواز سنائی دی۔ بازگشت ا س کی سماعتوں سے ٹکراتی اسے پریشان کیے دے رہی تھی۔ اس نے یہ کیوں کہا … وہ ریڑھی کا ذکر کررہی تھی۔ اس کا کہنا تھا ایک بار میں سبزی خریدنے گئی تھی۔ کب گئی تھی؟ اوہ … یہ تو مجھے اس سے معلوم کرنا یاد ہی نہ رہا۔ ہاں سبزی خریدنے گئی تھی۔ ریڑھی کا ایک کیل سبزی لے کر پلٹتے ہوئے اس کے دوپٹے میں اٹکا۔ وہ کہتی ہے اس لمحے میں سامنے والے جنرل سٹو رمیں کھڑا تھا۔ جانے یہ کتنے سال پہلے کی بات؟ کیسے ادا سے کہہ رہی تھی۔ ”مجھے یوں محسوس ہوا تم نے میرا آنچل پکڑا ہے۔ میں پلٹی تو کمبخت کیل تھا۔ کیل بھی مجھے تمہاری طرح نہیں بھولا کیونکہ تم جو جنرل سٹور میں کھڑے تھے“ عجیب و غریب خاتون ہے۔ جانے اس کی عمر کیا ہے ؟ کہیں بے وقوف نہ بنا رہی ہو …؟ ملاقات کا نہیں مانتی۔ مل بھی لے تو کیا حرج ہے میں نے اس عمر میں کون سا تیر مارلینا ہے … ہوں ہوں ں …ں… اس نے بے خیالی میں سر ہلایا۔ اسے کسی نے خبر دی ہوگی مرد نوے سال میں بھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ اب فون آیا تو کھری کھری بات کروں گا۔ مجھے تو فون کرنے کی اجازت بھی نہیں۔ سختی سے منع کر دیتی ہے اوپر سے رعب جھاڑتی ہے … تم نے فون کیا تو میں تمہیں کبھی فون نہیں کروں گی۔ کیسی الجھن میں ڈال دیا ہے مجھے اس پیری میں!خط کا ذکر ہر بار دہراتی ہے۔ پرانے ٹین کے بکسوں میں کتابیں رکھوائی تو تھیں میں نے … بیٹے سے کہتا ہوں سٹور سے بکسے نکال دے۔ شاید سچ نکل آئے۔ کہا تو بہو سے بھی جاسکتا ہے وہ بھی بھلی مانس ہے … بازار کی مشرقی نکڑ پر گول گپے والا صدا لگا رہا تھا … کرارے کرارے مزیدار گول گپے … وہاں سے گزرتے ہوئے اس نے ایک گول گپا منہ میں ڈالا اور خط کی تلاش کا آخری فیصلہ کرکے گھر کو چل دیا …
(۳)
بابا ․․․ٹرنک تو کہیں سٹور میں رکھوائے تھے۔ کیا ضرورت پیش آگئی؟
بیٹا ․․․اس میں پرانی تصویروں کے البم، میری کچھ ڈائریاں اور دوستوں رشتہ داروں کے خطوط ہیں۔ پرانی یادیں تازہ کرنے کو جی کرتا ہے۔ نوکر سے کہہ کر نکلوا دینا۔
اچھا بابا ․․․کل صبح اتوار ہے۔ میں بھی گھر پر ہوں۔ ٹرنک نکلوا دوں گا۔
دن خوب چڑھ آیا تھا۔ نوکر جانے کہاں مر گیا تھا۔ خود اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ سٹور کے کاٹھ کباڑ سے ٹرنک نکالتا۔ کہیں دوپہر میں دو ٹرنک اس کے بیٹے نے نکلوا کر کمرے میں رکھوا دیئے۔
رات ٹیلی ویژن پر خبرنامہ دیکھنے کے بعد اس نے کمرے کی کنڈی چڑھائی۔ ٹرنک کھولا۔ کتابیں، البم، خطوط، گرد آلود فائلیں! اس نے پہلے کتابوں کو ورق ورق کھولا۔ ٹرنک خالی ہو گیا لیکن اسے وہ خط نہیں ملا جس کی تلاش میں وہ سرگرداں تھا۔ کمر سیدھی کرنے کو اس نے دیوار سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موندلیں۔
یہ مجھے کیا ہوگیا ہے وہ عورت کیوں میرے حواس پر چھا گئی ہے۔ میرا اس سے کوئی ناطہ نہیں جڑتا، کوئی رشتہ نہیں نکلتا۔ کیسی پرسکون زندگی گزار رہا تھامیں، بازار جانا، اخبار پڑھنا، کیبل دیکھنا، گھر کے چھوٹے موٹے کام نمٹا لینا۔ اب ہر وقت اس کے خیالوں میں کھویا رہتا ہوں۔ دن کا چین، رات کی نیند گئی۔ اب کے فون آیا تو میں کھل کے بات کروں گا۔ وہ خیالوں کے تانے بانے بننے میں مصروف تھا۔ اسے دوسرا ٹرنک کھولنے کا خیال آیا۔ ٹرنک کھول کر وہ بٹر بٹر اپنی مرحومہ بیوی کی چیزیں دیکھ رہاتھا۔ اس ٹرنک میں سے کوئی کتاب برآمد نہ ہوئی۔ دونوں ٹرنک ماضی کی یادوں سے اٹے پڑے تھے۔ یادوں پر سے اس نے گرد صاف کی۔ رات گئے تک وہ ماضی کے دھندلکوں میں سے ایک چہرہ تلاش کرتا رہا۔ لیکن کوئی یاد کی کترن ایسی نہ نکلی جس سے وہ مکمل شبیہ ابھار لیتا۔ صبح فون پر اس نے خاتون کوخبر دی تھی کہ آج سٹور سے ٹرنک نکلوا کر میں خط تلاش کروں گا۔
فون کی گھنٹی بجی۔
وہ چونکا رات گئے کس کا فون ہے۔ شاید اسی کا ہو۔ امید لگائے بیٹھی ہو کہ خط کی بازیافت سے وہ اپنی محبت ثابت کرنے میں کامیاب ہو چکی ہو …!
ہیلو … ٹرنک میں سے کچھ نکلا…؟
ہاں مل گیا…
کیا خط مل گیا…؟
نہیں خاتون مجھے میرا ماضی مل گیا۔
چلو اس ٹرنک میں نہ سہی تم دل کا ٹرنک کھول کر دیکھو۔ وہاں تو خط موجود ہوگا ہی۔
خاتون میں آپ کو ایک مشورہ دوں؟
سر آنکھوں پر! دیجئے ۔
اب یہ کھیل بند کیجئے۔ میرے اعصاب چٹخ گئے ہیں۔ آپ واقعی اوائل عمر میں میرے گھر میں آئی تھیں، کسی کتاب میں خط رکھاتھا، جنرل سٹو رمیں کھڑے دیکھا تھا مجھ کو اور ․․․اور ․․․ مجھے فراموش کرنے کے لیے چار پانچ عشق فرمائے تھے۔ آپ …! ساری باتیں درست لیکن مجھے اس الجھن سے نکالیے۔ میں آپ سے کیا کہوں؟ میری سماعت آپ کی آواز کی عادی ہو گئی ہے۔ جس روز آپ کا فون نہ آئے میں کوئی کام نہیں کرپاتا۔ لیکن اتنا عرصہ گزرنے پر بھی آپ کی ذات ایک معمہ ہے جسے میں حل نہیں کرسکا۔
کیا تمہیں میرے فون سے خوشی ہوتی ہے؟
اس میں شک ہے کیا ․․․؟
تمہاری سماعت میری آواز سے اس درجہ مانوس ہو گئی ہے کہ تمہیں میری کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہ میری خوش قسمتی ہے۔
لیکن خاتون ․․․؟
صبر کا پیمانہ کیوں چھلکنے لگا۔ ٹھہرو! آج تمہاری الجھن دو رکیے دیتی ہوں۔
میں مڈل پاس متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہوں۔ شادی کی عمر نکل چلی۔ میر اکوئی مشغلہ نہیں۔ ہم معاشرتی جبر میں پسنے کے لیے پیدا ہوتی ہیں۔ گائے، بھینس، بکری کی طرح کسی کھونٹ باندھ دی جاتی ہیں۔ میں سارا دن گھر برتن مانجھتے، سوتیلی ماں کے سر سے جوئیں نکالتے، جھڑکیاں سہتے گزار دیتی ہوں۔ مجھے بھی خوشی کی تلاش تھی۔ اپنے اندر کی گھٹن کم کرنے کو میں نے رانگ نمبر ملایا۔ پہلے اپنے اندر ایک مکمل کہانی ترتیب دی پھر تمہارے ساتھ چل نکلی۔ تم حیران ہو گئے مڈل تعلیم اور اتنی باتونی کیسے ہوں۔ یہ اندر کی گھٹن کو راستہ ملا تو باتیں کرنے اور کہانیاں بُننے کا ہنر بھی آگیا۔ جب تم نے اپنی عمر بتائی تو میں پرسکون ہو گئی۔ یہ میری زندگی کاواحد رنگین مشغلہ تھا …
”تھا“ سے کیا مراد ہے تمہاری…؟
شاید میری ساری عمر کی ریاضت، صبر اور سوتیلی ماں کا جبر جو میں نے جھیلا اللہ میاں کو پسند آگیا۔ ایک رشتہ آیا ہے میرا، یوں سمجھو، طے بھی ہو گیا۔
کون ہے وہ ․․․!
ایک رنڈوا ہے ، کپڑے کی دکان کرتا ہے۔ اسے اپنے بچے ، پالنے کے لیے ایک عورت چاہیے مجھے نہیں معلوم میں ایک جہنم سے دوسرے جہنم میں جا رہی ہوں یا کوئی خوشی بھی میری منتظر ہے۔ تمہیں میں نے بہت تنگ کیا۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔
تو … کیا اب کبھی فون نہیں کرو گی۔
نہیں …!
فون بند ہو گیا۔ کمرے میں ہولناک سناٹا تھا۔ ایسے لگا وہ کوئی فلم دیکھ رہا تھا۔ وہیں ٹرنکوں کے پاس بیٹھے بیٹھے رات کے کسی حصے میں اسے نیند آگئی۔ صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس کا ہر عضوِ جسم پھوڑے کی مانند درد میں مبتلا تھا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اعصاب جواب دے گئے۔
اسے یوں لگا اس کے جسم کا ہر عضو آج ریٹائر ہو گیا ہے۔
لرزیدہ لمحوں کا تاوان (محمد حامد سراج) الزبیر میگزین
Popularity: 8%
