قادیانیت، قادیانیوں کے مشہور انگلش تراجم
October 8, 2009 – 2:41 PM | تبصروں کی تعداد: 10.

قادیانیت کے حوالے سے گزشتہ عرصہ بلاگرز کے درمیان کافی لے دے ہوئی ۔ خبروں میں بھی قادیانیت کا تذکرہ ہوتا رہا۔ جناب خود ساختہ جلا وطن (MQM) کے قائدِ ابدی الطاف حسین صاحب نے …

بقيہ پڑھيں »
خطِ نستعلیق

نستعلیق کے متعلق تمام دستاویزات جن میں مضامین اور نمونہائے خط شامل ہیں۔

سیاست

یہ زمرہ قومی سیاست کے ارد گرد گھومے گا۔ جہاں تنقیدی اور اصلاحی مضامین ہوں گے۔

شعر وشاعری

شعر وشاعری کا زمرہ جہاں مختلف شاعروں کا مختلف مضامین پر کلام شائع ہوگا۔

عربی خطوط

خطوط کے بارے میں معلوماتی خزانہ۔ ثلث نسخ دیوانی کوفی رقعہ اور دیگر عربی خطوط۔

مدینہ منورہ

جوارِ حبیب سے دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ۔ تصویریں اور ویڈیو مناظر۔

سرورق » افسانے

کھلونا۔۔

کاتب: راسخ کشمیری بتاريخ: August 28, 2009 – 4:00 PMکوئی تبصرہ نہیں

 

toys

امجد پانچ یا زیادہ سے زیادہ چھ سال کا تھا … چند ماہ ہی ہوئے کہ اس نے سکول جانا شروع کیا تھا۔ وہ ذرا ہٹ کا پکا تھا۔ عام بچوں کی طرح اسے بھی کھلونے بہت پسند تھے، اس کا دل چاہتا کہ ہر وقت کھلونوں میں گھرا ان سے کھیلتا رہے ۔ ان سے اپنے مخصوص انداز میں گٹ مٹ (گفتگو) کرتا رہے ۔ لیکن امجد کے پاس کھلونے بہت تھوڑے تھے کیونکہ اس کا باپ کوئی امیر آدمی نہیں تھا۔ ان کے آبائی شہر سے کافی دور ایک شہر تھا کیمبل پور جو اب اٹک سٹی کہلاتا تھا اٹک سٹی میں ایک ریٹائرڈ سکول ماسٹر کو اپنے شہر میں بیکری بنانے کی سوجھی، ماسٹر صاحب بڑے پریکٹیکل آدمی تھے وہ کشمیر کے باشندوں کو بڑے باکمال ، محنتی اور دیانتدار سمجھتے تھے۔ ان کا برملا یقین تھا کہ دنیا کے اعلیٰ ترین انسان کشمیر میں بستے ہیں۔ اپنی بات کو زور دار بنانے کے لیے وہ کہا کرتے کہ ادیبوں میں سب سے بڑا ادیب علامہ اقبال ہے وہ کشمیری ا لنسل تھا، سیاست دانوں میں سب سے بڑا سیاست دان نہرو ہے وہ کشمیری تھا۔ تن سازوں میں سب سے بڑا تن ساز گاما پہلوان ہے وہ کشمیری تھا۔ حسن کی بات کریں تو ہے کوئی کشمیروں کے پاسنگ۔ کشمیریوں میں جو بدصورت ہے وہ بھی ہمارے حسینوں سے بہتر ہے ۔ ماسٹر صاحب موصوف اپنی بیکری کے لیے کشمیر کے شہر مظفرآباد سے چھ نوجوان لڑکے بھرتی کرکے لائے ، جن میں سے ایک امجد کا باپ عبدالسلام بھی تھا۔

عبدالسلام کو پہلے تو بیکری میں میدہ گوندھنے پرلگایا گیا لیکن وہ چونکہ چھ کشمیری لڑکوں میں دوچار جماعتیں پڑھا ہوا بھی تھا۔ اس لیے بہت جلد ہر طرح کا مال تیار کرنے میں ماہر ہوتا گیا۔ وہ رس، بسکٹ، ڈبل روٹی، خطائیاں اور کیک تک بنانا بہت جلد سیکھ گیا۔ پیسوں کے معاملے میں بھی وہ بہت کھرا تھا۔ جلد ہی اس نے اپنا اعتماد جما لیا۔ ماسٹر صاحب یا ان کا بیٹا جب بیکری سے غیر حاضر ہوتے تو وہ خود ہی گاہکوں کو سودا دے لیتا۔ تجوری سے رقم خود ہی رکھتا نکالتا۔ سالوں پرسال گزرے تو اس کی تنخواہ جو دو ہزار روپے ماہوار سے شروع ہوئی تھی اب دس ہزار روپے ہو گئی۔ لیکن پیچھے گھر میں خرچ بھی بہت بڑھ گئے تھے ۔ جب وہ اٹک شہر میں آیا تھا تو ایک اس کا دم تھا اب اس کی بیوی تھی، تین بچے تھے، بڑی ایک بیٹی تھی پھر ایک بیٹا تھا اور پھر ایک بیٹی، بوڑھے ماں باپ تھے۔ باپ پہلے ایک شال فیکٹری میں روزگار پر لگا ہوا تھا لیکن اب وہ اتنا کمزور ہو گیا تھا اور اس کی بینائی دیدہ ریزی کرتے کرتے اتنی گھٹ گئی تھی کہ اس نے مجبوراً یہ کام چھوڑ دیا تھا۔ عبدالسلام کی ایک بہن جو پولیو زدہ تھی اور چلنے پھرنے سے معذور تھی اس کی شادی نہیں ہو سکی تھی، وہ بھی بھائی کے گھر میں رہتی تھی، لیکن گھر ان کا اپنا تھا۔ اس کے باپ نے کبھی اچھے وقتوں میں اس نیم سنگ و خشت اور نیم چوب و بنس کے گھر کی تعمیر کی تھی۔

عبدالسلام کو اٹک شہر میں جو تکلیف تھی وہ گھر سے دور افتادگی تھی۔ بیکریاں روز ہی کھلتی ہیں کیونکہ لوگوں نے ناشتہ ہر روز کرنا ہوتا ہے اور مہمان کسی بھی روز آسکتے ہیں … بیکری کا کام ایسا ہے کہ اس میں چھٹی کبھی ہوتی ہی نہیں، نہ جمعہ کو نہ اتوار کو نہ کسی تہوار کو۔ عبدالسلام کی سرتاپاؤں مصروفیت کو دیکھ کر بیکری کے مالک ریٹائرڈ ماسٹر صاحب نے اسے پیش کش کر رکھی تھی کہ اگر وہ اپنے شہر کو چھوڑ کر اٹک شہر میں سکونت اختیار کر لے تو مکان کا کرایہ وہ اپنے پلے سے دے دیا کریں گے لیکن عبدالسلام ہمیشہ ہنس کر ٹال دیتا کہ اللہ نے جسے رہنے کو کشمیر دیا ہے وہ وہیں کیوں نہ رہے ۔

اٹک شہر سے مظفر آباد پہنچتے پہنچتے عبدالسلام کو کبھی چار پانچ گھنٹوں سے کم وقت نہ لگا، وہ آٹھ بجے شب بیکری سے نکلتا، کامرہ، حسن ابدال، حویلیاں کے راستے وہ ایبٹ آباد پہنچتا اور پھر یہاں سے آگے مانسہرہ، بالا کوٹ سے گزرتے ہوئے مظفر آباد آدھی رات کے وقت آتا۔ ایک دوسرا راستہ ایبٹ آباد سے نتھیا گلی اور کو ہالہ والا بھی تھا۔ لیکن وہ اس پربہت کم آتا۔ وہ گھر آتا تو گھر سارا سویا پڑا ہوتا وہ چار پانچ گھنٹے اپنی بیوی کے پاس گزارتا اور صبح پانچ بجے جب وہ پہلی بس کے لیے گھر سے نکلتا تو گھر والے یا سوئے ہوتے یا نماز پڑھ رہے ہوتے، اس کا پیچھے وعدہ ہوتا کہ میں دس بجے ضرور بیکری میں موجود ہوں گا۔

عبدالسلام اپنے گھر ہمیشہ اتنے کم عرصے کے لیے نہیں آتا تھا، کبھی کبھی وہ دو دو تین تین دن کی چھٹی لے کر آتا … تب اس کی اور امجد کی اور امجد کی بہنوں کی خوب دوستیاں لگتیں۔ ایسے وقتوں میں عبدالسلام، امجد کو اٹھا کر اپنے کندھوں پر بٹھا لیتا، ایک پاؤں سینے کے ا س طرف دوسرا پاؤں سینے کے اس طرف اور اسے اسی طرح کندھوں پر لیے ، شہر میں گھومتا پھرتا تب امجد خوب چہکتا اور پچھلے گزرے تمام دنوں کی روئیداد اپنے باپ کو سناتا … اس کی دادی نے عبدالسلام کی غیر حاضری میں کیا کہا تھا اور امجد کی ماں نے کیا تکرار کی تھی، پھپھو کیا کہتی تھی اور اس کے دادا نے بات کو بڑھنے سے کیسے روکا تھا! عبدالسلام اپنے بیٹے کو کندھے پر سوار کیے کیے اپنے دوستوں سے ملنے جاتا، عبدالسلام کے دوست اس سے خوب گھل مل کر باتیں کرتے ، اس سے اس کے شہر اٹک کے قصے سنتے اور اپنے شہر کی باتیں اسے بتاتے کہ یہ بھی جہاں سے خبردار رہنے کا ایک طریقہ ہے ۔

عبدالسلام کے کندھوں کی بیٹے کے بوجھ سے جب خوب ٹکور ہو چکتی تو وہ اسے کندھوں سے نیچے اتار لیتا، اس کا ہاتھ اب اپنے ہاتھ میں لے لیتا، وہ گھومتے پھرتے … درزی کی دکان پر جاتے جہاں سے عبدالسلام نے پچھلی بار سلائی کے لیے دیا ہوا اپنا جوڑا لینا ہوتا، وہ جوڑا درزی سے لیتا اسے پرکھتا، درزی کو ادائیگی کرتا، کپڑوں والا شاپر وہ امجد کو تھما کر پھر آگے چل پڑتا۔ عبدالسلام جہاں سے بھی کچھ خریدتا وہاں یہ ضرور بتاتا کہ میں بے شک اٹک شہر میں ہوتا ہوں لیکن مجھے جو کچھ بھی خریدنا ہوتا ہے میں وہ یہاں سے خریدتا ہوں کہ یہاں چیزیں سستی بھی ہیں اور ان میں ہیرا پھیری بھی نہیں۔ باپ بیٹا دہی بھلوں والی دکان سے دہی بھلے خریدتے … دو دونوں میں، ایک دونا اپنے لیے اور دوسرا دو نا گھر کے دوسرے افراد کے لیے اور واپس گھر لوٹ آتے ۔

عبدالسلام خود تو چونکہ سارا وقت اٹک شہر میں رہتا تھا اور اس کے باپ کی بینائی چونکہ روزبروز گھٹتی جارہی تھی اور وہ کمزور سے کمزور ہوتا جارہا تھا اس لیے گھرکا روزمرہ کا سودا سلف امجد کی ماں خرید کر لاتی تھی اور اب تو امجد بھی چونکہ بڑا ہونے لگا تھا اس لیے ماں اسے بھی اپنے ساتھ لے جاتی … امجد کی ماں مظفر آباد میں ہی پلی بڑی تھی، ایک لحاظ سے یہ اس کا اپنا شہر تھا، یہاں دو دریا نیلم اور جہلم باہم ملتے ہیں۔ مظفر آباد کے پرسکون اور ٹھنڈے میٹھے شہر نے دن دونی رات چونی ترقی کی ہے ۔ آج سے نصف صدی پہلے پاکستان بنا تو یہ تین ہزار آبادی کا ایک دیہات تھا لیکن وادئ کشمیر سے لٹے پٹے مہاجرین آرہے تھے اور یہ ان کی پاکستان میں پہلی پناہ گاہ تھی چنانچہ یہ اس تیزی سے بڑھا کہ اس کی موجودہ آبادی ایک لاکھ سے کم نہیں۔ ویسے اسے اب سے کوئی چار صدیاں پہلے سلطان مظفر خان نے آباد کیا تھا اسی کے نام پر یہ مظفر آباد کہلاتا ہے۔ سلطان مظفر خاں نے یہاں سلطانی مسجد تعمیر کروائی تھی جو آج دن تک موجود ہے ۔ سلطان مظفر خاں کا مدفن بھی یہیں ہے ۔ شہنشاہ جلال الدین اکبر کا تعمیر کردہ جلال آباد باغ بھی آج تک موجود ہے ، اکبری عہد میں یہاں ایک قلعہ بھی تعمیر ہوا تھا۔

سکولوں اور یونیورسٹی والے مظفر آباد، سی ایم ایچ والے مظفر آباد، لاتعداد حکومتی اداروں والے مظفر آباد کا سب سے بڑا شاپنگ سنٹر مدینہ مارکیٹ ہے ۔ اپر اڈا کہ یہ شہر کا دھرا ہے سے سی ایم ایچ روڈ پر چلیں تو یونیورسٹی اور گوشت مارکیٹ سے ہٹتا ہوا گیلانی چوک آتا ہے ۔ گیلانی چوک سے سیڑھیوں کی ایک لامتناہی مسافت شروع ہوتی ہے کہ اس کو طے کرتے کرتے انسان کا سانس پھول جاتا ہے۔ سیڑھیوں کے دونوں طرف ہی دکانیں، مارکیٹیں اور پلازے ہیں، یہی مدینہ مارکیٹ ہے جو آزاد کشمیر کا سب سے بڑا شاپنگ سنٹر ہے۔ یہاں گارمنٹس، جوتوں، جیولری، کاسٹمیٹکس، سویٹس ، اشیائے خوردنی کی ہول سیل دکانیں، الیکٹرانکس اور کھلونوں کی دکانیں ہیں … یہیں وہ کھلونوں کی دکان تھی جہاں امجدنے وہ گھوڑا کھلونا دیکھا تھا، امجد کویہ ایسا خوبصورت لگا تھا کہ وہ آنکھیں جھپکنا بھول گیا۔ وہ اسے دیکھتا رہا اور بس دیکھتا رہا۔ اور پھر ماں جس کا ہاتھ تھام کر وہ بازار میں سودا خریدنے آیا تھا سے ضد کر اٹھاکہ مجھے یہ لے کر دو، ماں نے بھی کھلونے کو دیکھا تو ٹھٹک گئی، وہ کھلونا کیا جیتا جاگتا گھوڑا تھا، سرپٹ بھاگتا ہوا گھوڑا نتھنے پھولے ، ایال اڑتے سے اور دم ہوا میں لہریئے بھرتی لگتی، یہ گھوڑا لکڑی کا تھا نہ ٹین کا بلکہ کسی انوکھی ہی قسم کے پلاسٹک کا تھا، امجد کی ماں نے اسے ہاتھ سے چھو کر دیکھا تو اسے اس کی مضبوطی کا اندازہ ہو گیا، یہ گھوڑا کھلونا جو خاصا بڑا تھا کمان جیسے دوپیڈسٹل پر کھڑا تھا یہ پیڈسٹل جو کمانیوں کی طرح خمیدہ تھے خاصے بڑے تھے ، امجد کے قد کے برابر ضرو رلمبے ہوں گے اور ان کے نیچے دو اِدھر دو اُدھر چار گول اور چھوٹے ریڑھو پہیئے لگے ہوئے تھے، گھوڑے کی کمر پر چری رنگ کی زین نقش تھی، امجد کی عمر کا بچہ گھوڑے کی زین پر بیٹھ سکتا تھا اور گھوڑے کے جہاں کان ہوتے ہیں وہاں دو خوبصورت سی مٹھیاں تھیں ان کو ہاتھ میں لے کر اور اپنے پاؤں فرش پر ٹکا کر گھوڑے کو ریڑھو پہیوں پر خوب گھما پھرا سکتا تھا۔

دکاندار ماں بیٹے کو گھوڑے میں کھبے دیکھ کر ان کے پاس آگیا او رآکر بتانے لگا کہ گھوڑے کے پیٹ کے نیچے پیڈسٹل پر جو خالی جگہ ہے اگر بچہ وہاں اپنے پاؤں ٹکالے تو دوسرا کوئی بچہ گھوڑے کو پیچھے سے دھکیل کر اس کے ریڑھو پہیوں پر اسے خوب دوڑا سکتا ہے اور گھوڑے کی پیٹھ پر سوار بچہ جھونٹوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے ۔ امجد کی ماں نے دکاندار سے پوچھا: ”یہ کھلونا ایسا نازک تو نہیں کہ ایسا کرنے سے ٹوٹ جائے ؟“
”باجی! یہ بہت مضبوط ہے “ بالکل نہیں ٹوٹے گا، اگر یہ ٹوٹ جائے تو آپ بے شک اسے واپس کر کے ہم سے دوسرا لے جائیں۔“ دکاندا ر سیلز مینی کے حربوں میں طاق لگتا تھا۔
”اچھا! اس کی قیمت بھلا کیا ہے ؟“
”باجی جی، ہم یوں تو اسے ایک ہزار روپے میں بیچ رہے ہیں لیکن آپ ہمارے جاننے والے ہیں پھر بچے کا دل اس پر آگیا ہے ، ہم نے بچوں کے کھلونوں کی یہ دکان کھولی ہی بچوں کا دل جیتنے کے لیے ہے ، میں آپ کو دو سو روپے چھوڑ دوں گا، آپ اس کے صرف آٹھ سو روپے دے دیں۔“
”یہ تو بہت زیادہ ہے ، آپ قیمت گھٹائیں “
”میں آپ کو پچاس روپے اور چھوڑ دوں گا، آپ ساڑھے سات سو روپے دے دیں، اس سے کم پر بیچنا میرے لیے ممکن نہیں، چنانچہ آپ سے معذرت کر لوں گا۔“
”اچھا ٹھیک ہے ، میں یہ پھر لے جاؤں گی … اس وقت تو میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔“ امجد کی ماں نے امجد کا شانہ پکڑا اور وہاں سے چل پڑی، امجد نے اس وقت تک باآواز بلند رونا اور بسورنا شروع کر دیا تھا۔ امجد کی ماں بڑبڑائی، ”کم بخت کہتا ہے کہ ہم نے بچوں کا دل جیتنے کے لیے کھلونوں کی دکان کھولی ہے یہ نہیں کہتا کہ ہم نے بچوں کو رلانے کے لیے اتنے مہنگے کھلونوں کی دکان چالو کی ہے ۔“

امجد نے جب سے گھوڑا کھلونا دیکھ لیا تھا وہ چاہتا تھا کہ یہ اسے مل جائے ، ترکیب اس کے پاس یہی تھی کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا، ہر کسی سے بولنا چالنا چھوڑ دیا … ہر وقت منہ لٹکائے ایک طرف بیٹھا رہتا … سکول بھی روتا دھوتا جاتا۔ بہنوں، دادا ، دادی، پھوپھو اور ماں … ہر کسی کو ایسے دیکھتا جیسے وہ سب اس کے مجرم ہوں۔ یہاں ایک لطیفہ سن لیجئے ، کسی تقریب میں ایک خاتون نے بڑی ہی دیدہ زیب اور پھڑکتے رنگوں والی ساڑھی لگا رکھی تھی، ایک سہیلی نے پوچھا: ”بگو! (بمعنی گوریا!) کتنے میں لی؟“ بگو مسکرا کر اور رازداری سے بولی: ”دکان پر لگے ہوئے میں نے اسے دیکھا تو ضد کر اٹھی، لیکن یہ اتنی مہنگی تھی کہ وہ مانتے نہیں تھے، میں نے دو دن کھایا پیا کچھ نہیں روٹھ کر بیٹھ گئی، بچوں کی خوب دھنائی کی۔ سالن کی چت بنائی، تب جا کر یہ ملی ہے ۔“

حسب دستور ایک دن امجد کی ماں نے پی سی او سے اپنے خاوند کو اٹک سٹی میں اس کی بیکری پر فون کیا۔ عبدالسلام نے گھر کی خیروعافیت پوچھی، بیوی نے بتایا کہ باقی تو سب عافیت ہے لیکن امجد بہت دنگا کرتا ہے ، اسے ایک دکان پر ایک کھلونا پسند آگیا ہے گھوڑے کا اس کی ضد ہے کہ مجھے یہ لے کر دو لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ ہے ، دکاندار ساڑھے سات سو روپے مانگتا ہے … عبدالسلام نے کہا کہ دکاندار سے کہو کہ قیمت کم کرے ۔ بیوی بولی کہ دکاندار نے میرے کہنے پر اڑھائی سو روپے کم کر دیے ہیں وگرنہ وہ اس کی قیمت ایک ہزار روپیہ بتاتا تھا، بڑی مشکل سے وہ اس قیمت پر مانا ہے لیکن میرے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں ہیں۔ عبدالسلام نے کہا کہ میرے بیٹے کو رلاؤ مت۔ اسے کہہ دو کہ میں جس دن آیا اُسے یہ کھلونا لے دوں گا لیکن وہ اچھا بچہ بن کر رہے ، خوشی خوشی سکول جایا کرے، دل لگا کر پڑھا کرے، اس کا دنگا کرنا مجھے بالکل پسند نہیں، تم اس کی تربیت سے غافل کیوں رہتی ہو؟

ایک دن امجد صبح سویرے سو کر اٹھا تو اس کی ماں نے اسے بتایا کہ آدھی رات کے وقت اس کا باپ آیا تھا وہ کتنی ہی دیر اس کی چارپائی پر اس کے سرہانے بیٹھا رہا۔ اس وقت امجد غفلت کی نیند سو رہا تھا س لیے اس کے باپ نے اسے جگانا پسند نہ کیا … منہ اندھیرے ابھی وہ سویا ہی پڑا تھا کہ اس کاباپ بس اس کا ماتھا چوم کر اپنی ڈیوٹی پر اٹک شہر چلا گیا پھر امجدکی ماں امجد کی کچھ متلاشی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے بولی، ”ہاں، ہاں! تیرا باپ … تیرے کھلونے کے لیے پیسے مجھے دے گیا ہے اور کہہ گیاہے کہ وہ کھلونا اسے آج ہی لے دینا “
امجد بے قرار ہو کر اٹھا اور ضد سے بولا، ”امی! مجھے وہ گھوڑے والا کھلونا ابھی لے کر دو۔“
”ابھی کہاں سے لے کر دوں؟ ابھی تو بازار بند پڑے ہیں۔“ پاگل! تمہیں پتہ نہیں کہ دکانیں تب کھلتی ہیں جب دن خوب چڑھ آتا ہے ۔“ امجد کا ولولہ کچھ ٹھنڈا پڑ گیا بلکہ وہ کچھ اداس ہو گیا … اسے اداس دیکھ کر اس کی ماں کہنے لگی: ”بیٹا! آؤ میں تمہیں نہلا دوں نہا کر سکول کا یونیفارم پہن کر تم سکول جاؤ گے ، سہ پہر کو جب تم سکول سے آؤ گے تو پھر میں تمہارے ساتھ چلوں گی اور ہم وہ گھوڑا کھلونا خرید کر لائیں گے ۔“

ماں کے کہنے پر امجد نے نہا دھوکر سکول کا دھلا دھلایا یونیفارم پہن تو لیا لیکن اب پھر وہ اڑی پر آگیا کہ میں پہلے کھلونا لوں گا تب سکول جاؤں گا … اب امجد کی دادی بھی امجد کی حمایت کرتے ہوئے بولی، ”بہو! بچے کو مت رلاؤ، جب اس کاباپ کھلونے کے لیے پیسے دے گیا ہے تو تم اسے لے کر کیوں نہیں دیتیں؟ ساتھ ہی تو بازار ہے ، جاؤ اور اسے کھلونا لے کر دو، سکول وہ ذرا دیر سے چلا جائے گا۔ “
”اماں! آپ یہ بات نہیں سمجھتیں، اگر اسے سکول دیر سے جانے کی عادت پڑ گئی تو یہ اس کے لیے بہت برا ہوگا۔“
”بہو ! بس آج کی آج اس کی مان لو، آئندہ یہ کبھی ایسا نہیں کہے گا نہ میں کبھی اس کی حمایتی بنوں گی۔“

ماں بیٹا دکان پر پہنچے تو ابھی صبح صبح تھی کھلونوں کی وہ دکان ذرا ہی پہلے کھلی تھی، دکان کے اندر جھاڑ پونچھ ہو رہی تھی۔ ایک ملازم فرش پر جھاڑو دے رہا تھا … امجد نے جاتے ہی کھلونا جو اسے جند جان کی طرح پسند تھا کے اوپر ہاتھ رکھ دیا، امجد کی ماں جیب سے پیسے نکال کرگننے لگی اور دکاندار سے اس نے پوچھا: ”دکاندار بھائی! کتنے پیسے اس کے دوں؟“
”آپ آج دن میں ہماری پہلی خریدار ہیں، آپ سے ہم نے بوہنی کرنی ہے ، اس کھلونے کی قیمت ویسے تو ایک ہزار روپے ہے لیکن آپ آٹھ سو دے دیں او ریہ کھلونا لے جائیں۔“
”بھائی! میں چند دن پہلے بھی یہاں آئی تھی، اس وقت یہاں جو دکاندار تھا، اس سے میری بات ساڑھے سات سو میں طے ہو گئی تھی اب آپ آٹھ سو سنا رہے ہیں۔“
”آپ سچ کہہ رہی ہیں لیکن وہ دوسرا دکاندار اس وقت یہاں موجود نہیں وہ دس گیارہ بجے کے بعد آتا ہے ، آپ اس وقت آ کر بخوشی یہ کھلونا اس سے لے جائیں۔“

امجد کی ماں نے سوچا کہ پچاس روپے کی رقم اچھی بھلی ہوتی ہے ۔ ایک گھریلو اور سگھڑ عورت کی طرح اسے یہ رقم ضرور بچانی چاہیے ۔ اس نے امجد کی کلائی کو پکڑا اور بزور دکان سے باہر نکل آئی۔ امجد روتا شور مچاتا اس کے ساتھ تھا وہ دونوں دکان کے باہر گلی اور پھر ذرا کھلے میں آئے تو امجد نے اپنے بازو کو بل دیا اور ساتھ ہی زور سے جھٹکا مارا تو ماں کی گرفت سے وہ آزاد ہو گیا… ایسا کرنا چند دن ہی ہوئے اس نے سکول میں اپنے ہمجولیوں سے سیکھا تھا۔ اس کی ماں دنگ رہ گئی، امجد میں اتنا زور اتنی پھرتی کب سے آگئی تھی !! امجد روتے ہوئے اور دھاڑیں مارتے ہوئے یکبارگی واپس کھلونوں والی دکان کی طرف بھاگا جارہا تھا اور زور زور سے کہہ رہا تھا، ”میں کھلونا لوں گا، میں گھوڑے والا کھلونا لوں گا “ امجد کی ماں چند لحظوں کے لیے بھونچکا گئی، وہ اب کیا کرے ؟ امجد کی ضد کیا مان لے ؟ … دھرتی کے نیچے ایک ہیبت ناک گڑگڑاہٹ ہوئی، ایسی ہی گڑگڑاہٹ جو قیامت کے دن ہوگی اور جسے سن کر لوگ بے ہوش ہو جائیں گے پھر اسی لمحے زمین بری طرح لرزنے لگی، امجد کی ماں کو لگا کہ زمین کے فرش کو کوئی لپیٹ رہا ہے ۔ اسی طرح جس طرح فرشی دری کو لپیٹا جاتا ہے ، زمین کا یہ فرش لہروں کی صورت میں آگے کی طرف چل دیا۔ پھر ایک دیوار ڈھائیں سے … گری، کیسا کپکپی والا دھماکہ تھا، اسی لمحے ایک اور دیوار نیچے آرہی پھر دیواروں پر دیواریں اور چھتیں گرنیں لگیں گویا یہ سنگ و خشت کا مربوط وجود نہ ہوں بلکہ خس و خاشاک ہوں، گرتی عمارتوں کے دھماکے پر دھماکے ، اٹھتے گردوغبار کے بادل، چھاتا اندھیرا، لوگوں کی غمناک چیخ و پکار، کان بہرہ کردینے و الا شوروشنب … امجدکی ماں کو لگا کہ ان سب کے درمیان وہ وجود کا واحد نقطہ ہے وجود کے دوسرے نقطے کی کھوج میں وہ گاڑھے ہوتے اندھیرے، گرتی دیواروں اور برستے خشت و سنگ کے درمیان ایک طرف کو ’امجد…امجد‘ پکارتے ہوئے سرپٹ دوڑ پڑی، سامنے غبار، مٹی، اندھیرے اور گرتی ہوئی دیواروں کی فصیل تھی۔ تو یہ زلزلہ تھا! خدایا !! زلزلہ کیا تیرے جلال کی ایک جھلک ہے !

امجد کی ماں نیچے ڈھے گئی تھی، شاید وہ بے ہوش ہو گئی تھی، اسے جب ہوش آیا تو عمارتیں اس وقت بھی گر رہی تھیں، چھتیں بیٹھ رہی تھیں، لوگوں کا واویلا ہر طرف سے سنائی دے رہا تھا … گردوغبار جب کچھ بیٹھنا شروع ہوا اور تاریکی گھٹنے لگی بلکہ اب … دھوپ بھی چھن چھن کر نیچے آنے لگی تب اس نے دیکھا کہ وہ پلازہ جہاں امجد کھلونا لینے گیا تھا وہ سب کا سب تہہ و بالا ہوا پڑا تھا۔ اس کی کوئی دیوار کوئی در کوئی چھت اپنی جگہ پر برقرار نہیں رہی تھی۔ وہ اس وقت ملبہ کا بے ہنگم اور بدہیئت ڈھیر تھا، اس کے نیچے جو کچھ بھی تھا وہ دب کر اس کا حصہ بن گیا تھا … اس کے امجد کو اس کے نیچے سے کون نکالے گا؟ وہ خوفزدہ ہوگئی اور پھر زور زور سے اور مسلسل رونے لگی اس وقت اسے اپنے جسم اور اپنے لباس کی کچھ خبر نہ تھی … پھر وہاں کئی لوگ آنے لگے جن میں جوان بھی تھے اور بوڑھے بھی اور اسے تسلی دینے لگے اور اسے صبر اور برداشت کی تلقین کرنے لگے۔ ان سب کے پیارے بھی امجد کی طرح ملبے کے نیچے زمین دوز ہو گئے تھے … امجدکی ماں ملبے کے پاس بیٹھی رہی۔ ملبے کے نیچے تو اس کی متاع تھی اس کی جان اور روح تھی، یہاں سے ہٹ کر وہ کہاں جاتی؟ حتیٰ کہ شام کا اندھیرا ہوتے ہوتے امجد کا باپ اٹک سٹی سے اپنے شہر میں قیامت خیز زلزلے کی اطلاع پا کر وہاں پہنچ گیا، اس نے حواس سے ماری اپنی بیوی کا ہاتھ تھاما اور اسے اس خرابے سے باہر نکال لایا۔ یہ ایک معجزہ ہی تھا کہ ان کا گھر بڑی حد تک محفوظ رہا تھا، گھر کے دیگر افراد زندہ بچ گئے تھے۔ زلزلے نے صرف امجد جو ان سب کی جان تھا کی جان لی تھی۔

زلزلے کا ملبہ اٹھانے کی مشینری ایک ماہ کے بعد آئی، سارے شہر کے ملبے اٹھائے جانے لگے ، امجد والے پلازے کا ملبہ اٹھا … ٹوائے شاپ ساری کی ساری گر پڑی تھی لیکن اس کا ایک کونا کسی طرح گرنے سے بچ گیا تھا، اس کونے میں وہ کھلونا گھوڑ اجوں کا توں تھا اور اس کے اوپر مٹی کا ایک ہیولہ بیٹھا ہوا تھا جس کے بالوں میں، کانوں میں، چہرے پر اور لباس پر بلکہ پورے وجود پر اتنی مٹی جم چکی تھی کہ لگتا تھا کہ یہ بھی مٹی سے اٹے ہوئے کھلونے کا حصہ ہے ، سوار نے جان کیسے دی یہ بھی راز نہ رہا، ایک زور دار اڑتا ہوا کنکر اس کی کنپٹی پر لگا تھا، یہاں سے خون جاری ہو گیا کہ خون کی ایک لمبی دھار رخسار کے نیچے سے بہتی ہوئی گردن تک چلی گئی تھی اور یہاں سے لباس کے نیچے ہی نیچے ٹخنے کے پاس سے گزر کر فرش پر جم رہی تھی لگتا تھا کہ یہ کنکر گولی جیسی تیزی سے کان پر لگا تھا اور راکب نے گھوڑے کی پشت پر ہی جان دے دی تھی۔

کھلونا (پروفیسر نصیر احمد چیمہ) الزبیر میگزین

شئیر کیجئے! آپکی عنایت کا شکریہ۔۔۔
  • Digg
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • email
  • RSS
  • PDF
  • Technorati

Popularity: 6%

تبصرہ لکھيں!

آپ کا يہاں تبصرہ کرنا ممکن ہے، يا پھر آپ اپنی سائٹ سے ٹريک بيک کر سکتے ہيں . آپ تبصروں ميں اشتراک بذريعہ: RSS کرسکتے ہيں.

اس موضوع پر تبصرہ فرمائيں اور سپام سے اسے محفوظ رکھيں آپ کے ہم نہايت شکر گزار ہيں....

آپ درج ذيل ٹيگز استعمال کرسکتے ہيں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>