قادیانیت، قادیانیوں کے مشہور انگلش تراجم
October 8, 2009 – 2:41 PM | تبصروں کی تعداد: 10.

قادیانیت کے حوالے سے گزشتہ عرصہ بلاگرز کے درمیان کافی لے دے ہوئی ۔ خبروں میں بھی قادیانیت کا تذکرہ ہوتا رہا۔ جناب خود ساختہ جلا وطن (MQM) کے قائدِ ابدی الطاف حسین صاحب نے …

بقيہ پڑھيں »
خطِ نستعلیق

نستعلیق کے متعلق تمام دستاویزات جن میں مضامین اور نمونہائے خط شامل ہیں۔

سیاست

یہ زمرہ قومی سیاست کے ارد گرد گھومے گا۔ جہاں تنقیدی اور اصلاحی مضامین ہوں گے۔

شعر وشاعری

شعر وشاعری کا زمرہ جہاں مختلف شاعروں کا مختلف مضامین پر کلام شائع ہوگا۔

عربی خطوط

خطوط کے بارے میں معلوماتی خزانہ۔ ثلث نسخ دیوانی کوفی رقعہ اور دیگر عربی خطوط۔

مدینہ منورہ

جوارِ حبیب سے دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ۔ تصویریں اور ویڈیو مناظر۔

سرورق » افسانے

اضطراب۔۔۔

کاتب: راسخ کشمیری بتاريخ: August 28, 2009 – 4:10 PMتبصروں کی تعداد: 3.

disorder

 اس برسات کی اکتا دینے والی رات میں بھی وہ اپنے پرانے شغل میں مبتلا تھا جس کو اس کے روزمرہ کے مشاغل میں شامل سمجھا جانا غلط نہ ہوگا۔ ماجد سامنے کی مسہری پر اوندھا دراز تھا، جوتے اس نے نہیں اتارے تھے اور قمیض کا کالر ڈھیلا کر لیا تھا۔ دن بھر کی گرد اور کثافت نے اس کے گھونگھریالے بالوں کی توانائی مرجھا دی تھی۔ میں نے دیکھا اس کی انگلیاں موبائل کے بٹنوں پر چل رہی تھیں اور اپنے گردوپیش سے بے خبر اس کی آنکھیں موبائل کے بلوری پردے پر انہماک کے ساتھ گڑی ہوئی تھیں۔ اس کے اس شغل سے میں اب کچھ اکتا سا چکا تھا۔ ایک بار اس نے مجھے موبائل کی اسکرین پردو Lesbian لڑکیوں کی چھوٹی movie دکھائی تھی جو خاصے گدیلے اور آرام دہ بستر پر دراز ایک دوسرے کی ٹی شرٹ اتار رہی تھیں۔ خدا جانے آدھے منٹ کی مووی کے ایسے عریاں اور شہوت انگیز ٹکڑے وہ کہاں سے اور کیسے حاصل کر لیتا تھا۔ میں نے لپک کر اس کا موبائل چھین لیا اور اس کے اسکرین پر نظر ڈالی مگر تب تک پردے پر اندھیرا ہو چکا تھا۔ میں نے موبائل اُسکے بستر پر ڈال دیا۔ ماجد اٹھائیس سال سے زیادہ کا نہ تھا جنسیت سے اس کی دلچسپی اسکی عمر کا تقاضا تھا اس لیے میں نے اس سے نہ پوچھا کہ اس بار وہ کونسی فحش فلم Downloadکرا کر لایا ہے۔

ہم دونوں ایک ہی کمپنی میں ملازم تھے میں اس سے کئی سال بڑا تھا اور کمپنی میں خاصا پرانا ہو چکا تھا۔ وہ میری تقرری کے کئی سال بعد کمپنی کے مارکیٹنگ سیکشن میں آیا تھا۔ میرے بیوی بچے تو وطن میں تھے ۔ مکان میں جگہ بھی تھی اور ماجد بھی اکیلا ہی تھا میں نے اس کو پے انگ گیسٹ کے طور پر جگہ دے دی۔ ماجد ایک تیز طرار اور ذہین لڑکا تھا۔ اس کا رنگ صاف، ناک نقشہ متوازن اور قد نکلتا ہوا تھا۔ انگریزی بھی اچھی بولتا تھا۔ چال ڈھال میں تھوڑی سی اکڑ اور خودسری کا انداز صاف نمایاں تھا۔ کئی بار میں نے یہ محسوس کیا کہ اس کے پاس مجھ سے گھلنے ملنے یا بے تکلف ہو کر باتیں کرنے کے لیے کوئی موضوع نہیں ہوتا جس کے سبب وہ خود اپنے خول میں مگن رہتا۔ ایک دن نہ جانے کس جھونک میں اور بڑے منہ پھٹ انداز میں اس نے اس رویئے کا سبب بھی بتا دیا۔ کہنے لگا: ”میں نے سنا ہے کہ آپ نے کمپنی کولکھ کر دے دیا ہے کہ آپ کو کوئی ایسا کام نہ سونپا جائے جس میں کمپیوٹر کی ضرورت پڑے کیونکہ آپ کو اسے آپریٹ کرنا نہیں آتا اور آخری عمر میں کمپیوٹر سیکھنے کے جھمیلے میں آپ پڑنا بھی نہیں چاہتے ۔“ میں نے ماجد کو بتایا کہ اس نے ٹھیک سنا ہے، کمپیوٹر سے مجھے وحشت ہوتی ہے وہ دوسروں کا منہ کھلوائے بغیر باتیں کرتا ہے۔ اس کے جواب میں وہ تیوریوں پر بل دے کر بولا: ”مجھ جیسے لوگوں کو جو تہذیب پال رہی ہے اس کو ٹکنو کلچر کا نام دیا جاتا ہے۔ جناب اتنا فاصلہ ہو گیا ہے ہمارے اور آپ کے درمیان کہ جب کبھی میں خالی وقت میں آپ سے گپ لڑانا چاہتا ہوں تو گھنٹہ بھر یہی سوچتا رہتا ہوں کہ ہم دونوں کون سے ایسے ٹاپک پر بات کر سکتے ہیں جس کے درمیان کوئی واہٹ پید اہونے کا امکان نہ رہے۔ صاحب مجھے تو آپ کے ہاتھ کی بنائی کافی کی تعریف کرتے ہوئے بھی ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ مزے لیتا ہوں اور خاموشی سے پی جاتا ہوں۔“

یہ بات اگر ماجد مجھے نہ بھی بتاتا تو بھی مجھے اس کا احساس تھا۔ وہ مجھے گھر کے اند رکی ایک بے معنی سی شئے سمجھ کر نظرانداز کر دیا کرتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ خود کمپنی نے جس کا میں برسوں سے ملازم تھا مجھے صاف بتا دیا تھا کہ اگلے ایک سال کے عرصے کے بعد وہ مجھے نکال دے گی۔ دیکھا جائے تو اس میں نہ کمپنی کا کوئی قصور تھا نہ مجھ جیسے بوڑھے آدمی کا۔ یہ بتانے میں مجھے تکلف نہیں کہ بستر پر لیٹے اس بدلتی دنیا کے بارے میں فکرمندی سے میں سوچا کرتا،د یکھتے ہی دیکھتے تجارت کی دنیا میں جو انقلاب آیا تھا اس نے مجھ جیسے بہت سے لوگوں کو یکایک بے مصرف ثابت کر دیا تھا۔ میں اگر کمپیوٹر چلانا سیکھ بھی لیتا تو اپنے مزاج اور پوری شخصیت کو کیسے بدلتا جو نئے تجارتی نظام کی نئی ضرورتوں کے پیش نظر ناکارہ ثابت ہو چکی تھی۔ ماجد جتنا وقت موبائل پر صرف کرتا شاید اتنا ہی وقت وہ اپنے کمپیوٹر پر انٹرنیٹ کی ہوا خوری میں بھی گزارتا۔ ایک دن جب میں نے اس کو حسب معمول رات کے وقت بستر پر موبائل سے شغل کرتے دیکھا تو چڑ کر بولا: ”میاں تم سے اگر کوئی بات کرنا بھی چاہے تو کب کرے تم کو اپنے کھلونے سے فرصت نہیں ملتی۔“ میری بات سن کر اس نے موبائل پر سے نظر تو نہیں ہٹائی لیکن دھیرے سے مسکرایا اور بولا: ”ابھی ابھی ایک Message آیا ہے۔ لیجئے آپ بھی سنیئے۔“ یہ کہہ کر اس نے اسکرین پر لکھی عبارت پر نظر ڈالی اور بولا: اس پیغام کا عنوان ہے :” دائمی رہائش گاہ“ پھر اس نے عبارت پڑھنا شروع کی: ”اے لوگو لپکو اپنے رب کی طرف ، اس کی پرکیف اور پربہار جنتوں، نیز اس کی حفاظت اور آغوش پناہ یعنی مغفرت کی طرف کہ وہ حقیقی اور دائمی رہائش گاہ ہے۔“ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ اس چھوٹے سے Handset کی کرامتوں سے مجھے پوری آگاہی نہ تھی اور نہ دلچسپی۔ جب کبھی بال بچوں کو فون کرنے کی ضرورت پڑتی تو پی سی او یا دفتر کے فون سے کام چلا لیتاتھا۔ بیوی تو دفتر کے ہی فون پر رابطہ قائم کر لیا کرتی تھی۔ دراصل اس کمپنی سے میرا معاملہ کچھ گھریلو قسم کا تھا۔ میرا باپ اپنی نو عمری کے زمانے سے ہی کمپنی کے موجودہ مالک کے باپ کا نجی سیکریٹری تھا اور اپنے بڑھاپے تک اسے چھوڑ کر کہیں نہ گیا۔ یہاں تک کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے یہاں ملازمت باپ کی خدمات کے مدنظر ہی ملی تھی۔ ماجد موبائل پر بھیجی گئی اس عبارت کو سنانے کے بعد اس بات کی دیر تک کوشش کرتا کہ مجھ سے باتیں کرے۔ اس درمیان اس نے مجھے بتایا کہ موبائل ہمارے نظامِ سرمایہ داری کی رگ رگ میں سما چکا ہے۔ میں نے اس موقع پر ماجد کے بارے میں اپنے دل کی بات پہلی بار کہہ دی: ”تم نوجوان لوگ مجھے کسی دوسری ہی دنیا کی مخلوق لگتے ہو۔“ یہ کہہ کر میں ہنسا او رمعذرت خواہ نگاہوں سے اس کو دیکھنے لگا کہ کہیں وہ برا نہ مان جائے ۔ اس کے چہرے پر ناگواری کا کوئی اشارہ نہ تھا۔ وہ کچھ سوچ کر بولا: ”ہمارے دن اور رات اب کارپوریٹ سوسائٹی میں گزرتے ہیں۔ نفع نقصان پر قائم اس سماج میں جینے کے لیے میرا خیال ہے کہ جسم میں خون کی گردش ذرا تیز چاہیے ۔ پھر اس نے بتایا کہ اس کا بلڈ ہمیشہ نارمل سے کچھ زیادہ بڑھا ہوا ہی رہتا ہے۔ یہ تو مجھے معلوم تھا کہ وہ کافی میں دودھ کے بجائے اسپرین کی گولی ڈال کر پیا کرتا تھا دوسری حیرت انگیز بات اس کی نیند کے بارے میں تھی۔ دیر رات تک میں اس کو انٹرنیٹ پر شادی ڈاٹ کام کی سیر کرتے دیکھتا۔ پھر نصف شب کے آس پاس جیسے ایک نئی تازگی آجایا کرتی۔ اس وقت اگر میں کچھ دیر کو ہوشیار ہو جاتا تو ماجد کو موبائل پر کسی سے باتیں کرتے ہوئے پاتا۔

اس گفتگو کے آدھے جملے جومیرے کانوں تک پہنچتے انہیں ادا کرتے وقت اس کے سینے میں مچلتے جذبات کی جو دھوپ چھاؤں مجھے اس کے چہرے پر آتی جاتی دکھائی دیتی اور جس کے ساتھ اس کی آنکھیں بار بار چمک اٹھتیں اور چہرہ تمتما جایا کرتا یا پھر گالوں پر شرارت بھری کیفیت کا شوخ رنگ سا بکھر جایا کرتا اور پھر جذبات کی آنچ سے پگھلے ہوئے الفاظ قطرہ قطرہ اس کے موبائل کے مائک پر ٹپکنے لگتے اور آواز میں ایک میٹھا سا مخملی سا ارتعاش کھنک جایا کرتا اور بے قراری کی اس کیفیت میں یہ اندازہ کر کے کہ میں جاگ گیا ہوں اس کا اچھل کر بستر چھوڑ دینا اور لمبی ڈگ بھر کر ڈرائنگ روم میں جا کر سلسلہ کلام جاری رکھنا ان باتوں سے مجھے یہ اندازہ تو ہو ہی جاتا کہ موبائل کی دوسری طرف جو کوئی بھی ہے وہ کہ کوئی عام اور کاروباری فرد نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا شناسا یا عزیز ہے جس کے لیے اتنے تن من کے ساتھ اتنی گہرائی میں اتر کر تیرنے کا مزہ لیا جاتا ہے اور جس کی دوسروں سے رازداری بھی برتی جاتی ہے۔ راتوں کی ان مہمات کو سر کرنے کے بعد خدا جانے وہ اپنی نیند کب پوری کرتا تھا۔

دھیرے دھیرے مجھے ماجد کے بارے میں جس کا پورا نام ماجد شیخ تھا کچھ اور باتیں بھی معلوم ہوئیں۔ ماجد کا باپ ایک سرکاری افسر تھا جو چند سال پہلے فوت ہو چکا تھا۔ ایک بڑا بھائی تھا جو ماں سے لڑ جھگڑ کر بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔ بڑی بہن کسی ڈگری کالج میں پڑھاتی تھی اور ماں کی کفالت کر رہی تھی۔

ایک رات وہ انٹرنیٹ پر شادی ڈاٹ کام میں اسکرین پر ایک لڑکی کی تصویر کو انہماک کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ لڑکی کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کی رہی ہوگی۔ تصویر میں وہ خاصی جاذبِ نظر کہی جاسکتی تھی ، دوپٹے سے آدھا سر ڈھکا ہوا، شرمائی سی کیمرہ مین کے بہت اصرار پر آدھی ادھوری نگاہوں سے کیمرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ چہرے پر ملاحت اور بھولے پن کی گھریلو سی کشش تصویر سے نکل کر جیسے پھاندی پڑ رہی تھی۔ اس پر نظر پڑتے ہی میں اپنی جگہ ٹھٹھک سا گیا۔ دھندلا سا خیال یہ بھی آیا کہ غالباً وہ چہرہ کہیں دیکھا تھا لیکن اس سے قبل کہ میں تصویر کی جانب پوری طرح متوجہ ہوں ماجد نے بڑی تیزی سے تصویر کو اسکرین پر سے غائب کردیا۔ مجھے شک ہو اکہ کہیں یہ لڑکی وہ تو نہیں جس سے راتوں میں موبائل پر ماجد دیر تک باتیں کیا کرتا ہے۔ لیکن میں نے بھی چشم پوشی سے کام لیا اور ماجد سے کچھ نہیں پوچھا۔ اسی وقت ماجد کے موبائل پر کوئی پیغام آنے کی گھنٹی بجی۔ ماجد نے پیغام پڑھا ، زور سے قہقمہ لگایا اور بولا: ”آپ دیکھ لیجئے ٹیکنالوجی کہاں کہاں اور کیسے کیسے استعمال ہو رہی ہے۔ اس پیغام کا عنوان ہے : ”حیات اور شعور“ پھر اس نے عبارت پڑھ کر سنائی: ”موت فنا نہیں بلکہ بقا کا نام ہے یہ وصالِ حق کا ذریعہ ہے ، موت کا آنا محدود کو چھوڑ کر لامحدود کی طرف جاتا ہے۔ ہوش مند و باشعور لوگوں کی طرح بھی طبعی موت کے پہلے ارادی موت اختیار کر کے اس کی لذت اور راحت کا مزہ چکھ لو۔“ پھر وہ مسکرا کر بولا: ”کچھ دنوں میں اب یہ Message آئے گاکہ ارادی موت کس کو کہتے ہیں اور اس موت کو کیسے گلے لگانا چاہیے تاکہ سیدھے جنت میں جانے کو مل جائے ۔“ مجھے ان پیغامات میں دلچسپی نہ تھی میں نے کوئی جواب نہ دیا اور دوسری طرف کروٹ لے کر سو گیا۔

یہ کہنے میں مجھے تکلف نہیں ہے کہ ماجد ایک محنتی اور ذہین لڑکا تھا جو اپنی ماں سے دور رہنے کے سبب کبھی کبھی اسے بہت یاد کرتا، موبائل پر اس سے بات کرتے ہوئے رو بھی پڑتا۔ اس کا خیال تھا کہ ماں نے اس کے لیے سب دکھ اٹھائے تھے اور اس کے بڑے بھائی نے نہ صرف اپنی پسند سے شادی کر کے اور پھر اکثر ماں کے مقابلے میں اپنی بیوی کی بے جا طرفداری کر کے ماں کا بہت دل دکھایا تھا۔

جن دنوں مجھ سے پردہ داری کے ساتھ ماجد موبائل پر راتوں میں عشق لڑایا کرتا مجھے اکثر اپنی جوانی یاد آیا کرتی، تب پیغام و سلام پہنچانے کے اتنے آسان ذرائع موجود نہ تھے، اس وقت ہر گھر میں فون بھی نہ تھے ۔ میری معشوقہ جو آج میرے جوان بچوں کی ماں ہے اس لڑکی تک ایک رقعہ حفاظت سے پہنچانے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے تھے۔ جوانی کے وہ پاگل پن کے دن مجھے یاد آتے جب میں اس پردہ دار لڑکی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اسکول کی بس کے انتظار میں گرمی کی دوپہروں میں ان پیڑوں کے نیچے ٹہلا کرتا تھا جہاں کنکوے کا مانجھا سوتنے والے کاریگر اپنا کام کر رہے ہوتے۔ یہ عشق میں نے طالب علمی کے زمانہ میں کیا تھا۔ تعلیم پوری ہوئی تو نوکری ملنا آسان نہ تھا۔ لڑکی غریب گھر کی تھی اس کے بھائی وغیرہ پہلے ہی پاکستان جا چکے تھے۔ بیوہ ماں اس کی شادی بلاتاخیر کر کے اپنے بیٹوں کے پاس کراچی جانے کے لیے بہت دنوں سے بے حد پریشان تھی۔ اس لیے ایک بہت ہی معمولی سی ملازمت اختیار کر کے اپنے ماں باپ کی مخالفت کے باوجود مجھے اپنی محبوبہ کو بیاہ کر لانا پڑا تھا۔ جب میں ماجد کو جذبات میں ڈوب کر راتوں کی تنہائیوں میں اس کی محبوبہ سے باتیں کرتے دیکھتا تو مجھے لگتا شاید میں ایک بار پھر اپنی جوانی کے گزرے ہوئے عہد میں لوٹ آیا ہوں او رماجد کی وہ شب بیداریاں مجھے اپنی شب بیداریاں لگنے لگیں۔

ایک دن ماجد کی غیر موجودگی میں ایک خاتون نے گھر کی کال بیل بجائی۔ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ متوسط گھرانے کی ایک مسلم خاتون دروازے پر کھڑی ہے۔ اس خاتون نے مجھے بتایا کہ وہ ماجد شیخ کے بارے میں کچھ ضروری معلومات حاصل کرنے کے لیے اس کی غیر موجودگی میں مجھ سے ملنے کی فکر میں تھی۔ اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ اس لڑکی کی ایک سہیلی کی بڑی بہن ہے جس کو ماجد یہاں سے سینکڑوں میل دور کے ایک چھوٹے سے شہر میں شادی ڈاٹ کام میں اس کی تصویر دیکھنے کے بعد کافی دنوں سے بلاناغہ فون کیا کرتا ہے۔ لڑکی متوسط گھرانے کی ہے، بی اے پاس ہے گھر پر بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہے، قبول صورت ہے۔ لمبی انتظار کے بعد کوئی معقول رشتہ نہ آنے کے سبب اس نے گھر والوں سے چھپا کر ماں کی رضامندی سے لیکن باپ کی لاعلمی میں رشتے کی تلاش میں انٹرنیٹ پر اپنی تصویر اور موبائل نمبر دیا تھا۔ وہ ایک ایسے باپ کی بیٹی ہے جس کا یہ ایمان ہے کہ جو لڑکیاں ٹی وی دیکھا کرتی ہیں ان کا جنازہ اس وقت تک قبر میں دفن ہونے سے انکار کر دیا کرتا ہے جب تک ان کا ٹی وی بھی ان کے ساتھ قبر میں نہ دفن کر دیا جائے ۔ وہ ٹی وی کو تالے میں رکھتا ہے۔ اس خاتون نے بتایا کہ لڑکی کا باپ کسی پرائیویٹ کالج میں پڑھاتا تھا اب ریٹائر ہو چکا ہے اور کئی بیماریوں کا مریض ہے۔ لڑکی کی ماں ایک گھریلو عورت ہے اور گنٹھیا کے شدید مرض میں مبتلا ہے۔ جہاں تک لڑکی کا سوال ہے وہ بہت سگھڑ، گھریلو، نیک مزاج اور روزہ نماز کی پابند ہے۔ میں نے اس خاتون سے پوچھا:
”کیا وہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی ملے ہیں؟“
”نہیں۔ صرف دونوں نے ایک دوسرے کی تصویریں انٹرنٹ پر دیکھی ہیں۔“
”کیا دونوں نے اپنے بزرگوں کو اس سلسلے میں اعتماد میں لیا ہے ؟“ میں نے جاننا چاہا۔
”نہیں۔ دونوں کو اس معاملے میں اپنے بزرگوں پر اعتماد نہیں ہے۔“ یہ جواب سن کر مجھے تھوڑی سی حیرت ہوئی۔ تو اس نے بتایا کہ دونوں ایک دوسرے کو اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے بارے میں سمجھنے اور سمجھانے میں لگے رہتے ہیں لیکن اپنے اپنے بزرگوں کو شامل نہیں کرنا چاہتے۔“
پھر میں نے اس ادھیڑ عمر کی سادہ مزاج خاتون سے آخری سوال کیا:
”کیا وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں؟“
”یہ بات تو وہ دونوں ہی زیادہ بہتر جانتے ہوں گے۔“ اس نے جواب دیا۔
”میں تو آپ سے ماجد کے چال چلن وغیرہ کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں۔ وہ بھی اپنے طور پر، کیونکہ اس لڑکی نے اپنی سہیلی کو جس کی میں بڑی بہن ہوں درپردہ اپنا ہم راز بنایا ہوا ہے اور کیونکہ میری بہن یہیں میرے پاس ہے اس لیے وہ اپنی دوست کی بہتری کے لیے اپنی جگہ چپ چاپ ماجد کے بارے میں معلومات کر لینا چاہتی ہے۔“

میں نے اس خاتون کو بتا دیا کہ لڑکا مناسب تنخواہ پاتا ہے ، کمپنی میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور جہاں تک میری علم میں ہے اس کا چال چلن بھی ٹھیک ہی ہے البتہ خاندانی حالات کامجھے کوئی خاص علم نہیں ہے۔ لڑکی کے بارے میں اس خاتون کی بتائی ہوئی باتوں میں مجھے ایک بات پریشان کر رہی تھی، اس لیے میں نے اس سے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا:
”آپ کہتی ہیں کہ لڑکی کو ٹی وی دیکھنے کی ممانعت ہے اور باپ ٹی وی کو تالے میں رکھتا ہے۔“
”جی ہاں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔ لڑکی کے کمرے میں ایک کھڑکی تھی جس پر وہ کبھی کبھی کھڑی ہوتی تھی۔ سامنے ایک قصائی کی دکان تھی اس کا جوان لڑکا اس پر ڈورے ڈالنے لگا۔ بڑا بوال ہوا۔ باپ کا خیال تھا کہ ایسی گمراہیاں ٹی وی دیکھنے سے ہوتی ہیں۔ باپ نے ٹی وی میں تالا لگا دیا اور وہ کھڑکی بھی چنوا دی۔“
میں نے پوچھا: ”پھر اس لڑکی کو موبائل کیوں تھمادیا گیا جو سینکڑوں میل دور ایک انجان لڑکے سے راتوں میں عشق و محبت کی باتیں کیا کرتی ہے۔“
اس کے جواب میں اس اجنبی خاتون نے مجھے بتایا کہ لڑکی کی ماں زمانہ شناس ہے۔ اس کا خیال ہے کہ لڑکی کا باپ تو بیٹی کا رشتہ تلاش کرنے میں کچھ نہیں کر پا رہا ہے اگر لڑکی کو بھی مشکیں باندھ کر رکھا گیا تو شاید وہ زندگی بھرکنواری ہی بیٹھی رہے۔

ماجد کے بارے میں اس اجنبی خاتون کی تفتیش کے بعد خاصا وقت گزر گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس دوران میں اپنی گھریلو پریشانیوں کے سبب ماجد کی صحبت سے کچھ کٹ سا گیا تھا۔ اسی دوران ایک عجیب واقعہ ہوا۔ دراصل ماجد نے اس کا جن لفظوں میں تجزیہ کیا تھا اس نے مجھے سوچنے پر مجبو رکردیا تھا۔ ہو ایہ تھا کہ ایک دن ماجد حسبِ معمول بستر پر دراز اپنے موبائل کے پردے پر آنکھیں جمائے کوئی منظر دیکھنے میں محو تھا میں نے ہمیشہ کی طرح اس سے دریافت کیا:
”پھر تم نے کوئی فحش منظر کہیں سے اڑا لیا۔“ جواب میں وہ خاموشی سے اسکرین دیکھتا رہا تو میں نے موبائل اس کے ہاتھ سے چھیننا چاہا، ٹھہریے وہ بولا: ”لیجئے ایک قصائی سے آپ کی ملاقات کرواتا ہوں۔“ یہ کہہ کر اس نے موبائل کے کچھ بٹن دبائے اسکرین جب روشن ہو گیا تو موبائل اس نے میری طرف بڑھا دیا۔ اسکرین پر سیاہ شلوار اور لمبے کرتے میں ارغوانی رنگ کی واسکٹ پہنے اور سر پر چنٹ دار گول ٹوپی لگائے بے ڈول بدن کا داڑھی والا ایک پٹھان ہاتھ میں ننگی تلوار لیے کھڑا تھا۔ اس کے پیروں کے پاس ہی ایک آدمی جس کی دونوں کلائیاں پیٹھ کے پیچھے رسی سے بندھی ہوئی تھیں فرش پر سینہ کے بل پڑا ہوا تھا۔ یکایک وہ تلوار والا پٹھان اپنا ایک گھٹنا اس کی پیٹھ پر رکھ کر بیٹھتا ہے۔ اپنے ایک ہاتھ کی مٹھی سے اس کے سر کے بالوں کو کھینچ کر فرش پر پڑے آدمی کا چہرہ اوپر کی جانب اٹھاتا ہے اور اللہ اکبر کا بلند نعرہ لگا کر اس کی اوپر کھینچی گردن پر مہارت کے ساتھ تلوار کا دھاردار پھل چلا دیتا ہے یہاں تک کہ سر تن سے جدا ہوجاتا ہے۔ پھر زمین پر لرزتے ہوئے بے سر کے تن کی پیٹھ پر کٹے ہوئے سر کو رکھ دیتا ہے۔ زمین پر خون کی نہر بہہ اٹھتی ہے اسی وقت ایک عبارت پیش منظر میں ابھرتی ہے لکھا ہے:
 ”یہ ظلم نہیں! بڑے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد ہے۔“
میں اس بھیانک اور دل سوز منظر کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتا رہ جاتا ہوں۔ کچھ پل بعد اس سکتہ کی کیفیت سے نکل کر میں سانس روکے ماجد کی طرف دیکھتا ہوں اور پوچھتا ہوں:
”یہ سب کیا ہے ؟“ جواب میں ماجد چپ رہتا ہے۔ میں پھر کہتا ہوں:
”اپنے حلیے سے یہ افغانستان کا کوئی طالبان لگ رہا ہے شاید۔“ ماجد کوئی جواب نہیں دیتا، اپنا موبائل جیب میں رکھ کر گھر سے باہر چلا جاتا ہے لیکن اس موضوع کو لے کر دوسرے دن ناشتے پر ماجد سے میری جو بات ہوئی اس نے مجھے اور بھی پریشان اور فکرمند کر دیا تھا میں نے اس سے پوچھا تھا:
”کیا وہ افغانستان میں کھینچی گئی کوئی فلم تھی؟“
”معاملہ افغانستان، ترکستان یا بلوچستان کا نہیں ہے۔ معاملہ تو ان وسائل کا ہے جن کی مدد سے یہ منظر آپ تک پہنچ رہا ہے۔“ پھر وہ مسکرا کر بولا تھا: ”ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے قصائی بھی پید اکیے جاسکتے ہیں، جو ٹائم بم کی طرح کہیں بھی اور کبھی بھی پھٹ سکتے ہیں۔ اس کو ٹیکنالوجی کلچر کی ایک چھوٹی سی سوغات کہا جاتاہے۔“ اس کے جواب نے مجھے چونکا دیا مگر میں اس کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا رہا تھا۔ میں نے اس سے معلوم کرنا چاہا کہ کیا وہ طالبانوں کاہمدرد ہے۔ کیا وہ مذہبی آدمی ،آخر اس نے اس فلم کو اپنے موبائل پرڈاؤن لوڈکیوں کیا؟ جواب میں وہ میرے سارے سوالوں کا مذاق اڑاتا رہا۔ پھر بولا: ”اس کوآپ لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ سمجھ لیجئے ۔ یہ چیزیں میرے لیے اسپرین کا کام دیتی ہیں۔“ اس میں شک نہیں کہ ماجد کو بہ ظاہر مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اسے اپنے علاوہ کن چیزوں سے دلچسپی تھی یہ بتانا مشکل ہی تھا۔

اس واقعے کو کافی دن گزر چکے تھے ماجد اپنا تبادلہ کرا کر ماں کے پاس جا چکا تھا۔ اس کے معاشقے نے اتنے عرصے میں کیا صورت اختیار کی تھی اس کی جستجو بھی میرے اندر اب پہلی جیسی نہیں رہ گئی تھی لیکن ایک دن دفتر کے کچھ لوگوں میں ایک عجیب سی کھسر پھسر ہو رہی تھی۔ بات کوکریدنے پر اتنا معلوم ہو اکہ ماجد نے اپنے گھر والوں سے چھپ کر ان کی شمولیت کے بغیر سینکڑوں میل دو رکسی شہر میں اپنی پسند کی شادی کر لی ہے۔ یہ بات میرے لیے کچھ خوشی کی بھی تھی اور کچھ تشویش کی بھی۔ میں نے ماجد سے فون پر بڑی بے صبری سے اس پراسرار خبرکی تصدیق چاہی تو معلوم ہوا کہ وہ خبر درست تھی اور وہ لڑکی وہی تھی جس سے ماجد راتوں میں موبائل پر باتیں کیاکرتا تھا۔ اتنی معلومات ہونا میری جستجو کے لیے کافی تھی۔ حالانکہ تفصیل کے طو رپر یہ جاننے کے لیے ابھی بہت کچھ باقی تھا۔ مثلاً یہی کہ شادی کیوں کر ہوئی، گھر والے کیوں شریک نہیں ہوئے اور شادی کر کے ماجد اپنی بیوی کو کہاں لے کر آیا اور لڑکی فی الحال کہاں مقیم ہے۔

ماجد کی شادی کی خوش خبری مجھ تک پہنچے ہوئے غالباً ایک ماہ گزرا ہوگا کہ ایک دن میرے گھر کی کال بیل بجی۔ دروازہ کھلا تو دیکھا وہی مقامی خاتون ایک بار پھر دروازے پر کھڑی ہے جنہوں نے خود کوکچھ عرصہ پہلے ماجدکی معشوقہ کی کسی سہیلی کی بڑی بہن کہہ کر متعارف کروایا تھا۔ اس اجنبی خاتون نے جو سنسنی خیز باتیں مجھے بتائیں وہ اخباروں کے لیے تو اچھا خاصہ مسالہ تھا لیکن میں تو جیسے تھرا کر رہ گیا۔ معلوم ہواکہ ماجد نے لڑکی کو اس بات پر رضامندکیا کہ بارات میں مع اپنی والدہ کے وہ کسی بھی عزیز کو شریک نہیں کرے گا اور صرف دو چار دوستوں کے ساتھ بارات لے کر آئے گا۔ ہوٹل میں قیام کرے گا اور دلہن کو رخصت کرکے ہوٹل میں لائے گا پھر شب عروسی گزار کر دوسرے دن ہنی مون کے لیے کسی پہاڑی اسٹیشن پر لے جائے گا۔ لڑکی کے ماں باپ راضی ہو گئے ۔ کیونکہ اتنا تو معلوم ہی تھا کہ لڑکا برسرروزگار ہے اور خاندان بھی ٹھیک ہے ، یہ ان کے گھر کی پہلی اور آخری شادی تھی۔ انہوں نے پورے اہتمام اور تمام رسومات کے ساتھ بیٹی کا عقد اور مہمانوں کی ضیافت کر کے اسے رخصت کیا۔ لڑکی رات بھر اپنے دولہا کے ساتھ ہوٹل میں رہی۔ وہاں دونوں کے درمیان زن و شوہر کا رشتہ قائم ہوا لیکن دوسرے روز تین پہر دن گزرنے کے بعد دولہا اپنی دلہن کو ہوٹل میں چھوڑ کر اور دلہن کی ماں کو یہ فون کر کے کہ ماجد کی والدہ دل کا دورہ پڑنے سے ہسپتال میں بھرتی کی گئی ہے الٹے پیروں جہاں سے آیا تھا وہاں واپس ہو گیا۔ ابھی ایک ہفتہ پہلے اسی نے موبائل پر لڑکی کو بتایا کہ وہ اسے طلاق دے چکا ہے۔ طلاق کی نوعیت کیا تھی یہ بھی وہی جانتاتھا۔ لڑکی کی ماں نے فون پر ماجد کی والدہ سے جب بات کی تو اس نے جواب دیا کہ لڑکی والوں نے نہ تو شادی کے معاملے میں اس کی ایما لی اور نہ اس کوشریک کیا گیا۔ اس لیے جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری ماں پر عائد نہیں ہوتی۔ جب لڑکی کی ماں نے قانونی چارہ جوئی کے لیے وکیلوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ جہیز کا مقدمہ قائم کرنا پڑے گا۔ لڑکی کو بہت سے جھوٹ بولنا پڑیں گے۔ دو تین سال کی مدت کے بعد تقریباً تین لاکھ روپیہ لڑکا گلو خلاصی کے عوض دے گا جس میں سے آدھی رقم وکیل اپنے محنتانے کے بہ طور لے لے گا۔ لڑکی کے ماں باپ ضعیف اور بیمار ہیں دوسرا کوئی دوڑنے دھوپنے والا گھر میں نہیں۔ مقدمہ لڑنا ان کے لیے عذاب تھا مگر لڑکی نے یہ کہہ کر ان کی مشکل آسان کردی کہ وہ عدالت میں اپنے وکیل کے سکھائے ایک بھی جھوٹ بولنے کے لیے تیار نہ ہوگی۔ یہ احوال بتا کر وہ خاتون کمرے سے باہر آئی کچھ فاصلے پر کھڑی ایک ٹیکسی کی طرف بڑھ کر آواز لگائی۔ ٹیکسی سے چادر میں لپٹی ایک لڑکی اتری جس کے ساتھ وہ کمرے میں واپس آئی۔ میں نے دیکھا وہ وہی تصویر والا چہرہ تھا، بھولا سا، اداس سا اور شرمیلا سا چہرہ۔ اس لڑکی نے صرف مجھے اتنا بتایا کہ نکاح سے پہلے جب ماجد ڈائس پر آکر بیٹھا تو بھی باربار وہ موبائل پر کسی سے بات کررہا تھااور اس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑرہی تھیں اور نکاح کے بعد بھی وہ مسلسل موبائل پر ہی مصروف تھا۔ پھر وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے اپنے دونوں ہاتھ جوڑکر بولی۔
”انکل میں آپ کے ہاتھ جوڑتی ہوں، مجھے اس قصائی سے ملوا دیجئے۔“ میں نے مردہ سی آواز میں اسے بتادیا کہ ماجد کا تبادلہ ہو چکاہے اور وہ اپنے وطن اپنی والدہ کے پاس جا چکا ہے۔
میرے لیے یہ بڑا افسوسناک واقعہ تھا۔جب مجھے ماجد سے اس موضوع پر بات کرنے کا موقع ملا تو میں نے اس سے پوچھا: ”یہ تم نے کیا کیا؟ ماجد تم سے ایسی امید نہ تھی۔“ اس کاجواب تھا: ”بڑ امقصد حاصل کیے جانے والے فیصلے جلد بازی میں نہیں کرنا چاہئیں۔“ یہ سن کر میں اپنا غصہ نہ روک سکا۔ بولا: ”یہ قصائی پن تم نے کیوں کیا؟“ اس کا جواب تھا: ”کیسا قصائی پن۔ شادیاں ہوتی ہیں تو طلاقیں بھی ہوتی ہیں۔“

اس گفتگو کے بعد ماجد سے پھر میری ملاقات نہ ہوئی۔ ایک موسم گرما کی شام جب عید کا تہوار قریب تھا میں گھر کے لیے کچھ خریداری کے واسطے بازار گیا۔ چوڑی والی گلی میں اس شام خواتین کا مجمع تھا وہیں مجھے اتفاق سے وہ خاتون مل گئیں جو ایک بار ماجد کی محبوبہ کو میرے گھر لے کر آئی تھی۔ میں نے ان سے اس لڑکی کے ساتھ ہونے والے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا تو اس نے بتایا کہ اس لڑکی کے سامنے جینے کا کوئی مقصد نہ رہ گیا تھا اس لیے اس نے پھانسی لگا کر خود کشی کرلی۔ یہ خبر سننے کے بعد سے نہ جانے کیوں کئی بار میری آنکھوں کے سامنے تلوار سے سر کاٹنے والا وہ دردناک منظر گھوم گیا جو ماجد نے کبھی موبائل کے اسکرین پرمجھے دکھا کر ایک قصائی سے ملوایا تھا۔

انہیں دنوں کی ایک رات میں نے خواب میں ماجد کو دیکھا۔ اس کے بدن پر ایک مختصر سی چڈھی کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہ تھا وہ ننگے بدن ایک اونچی کرسی پر بیٹھا تھا اور اس کے کندھے کے سہارے چمڑے کی ایک پیٹی لٹک رہی تھی جس میں ایک خاصا بڑا سا خنجر بندھا ہوا تھا۔ کچھ دیر میں اسے خائف نظروں سے دیکھتا رہا پھر میں نے ہمت کرکے اس سے کہا: ”بلاشبہ تم بے حد کمینے آدمی ہو۔“ میری کہی گئی اتنی سخت بات پرذرا بھی بر امانے بغیر اس نے سوال کیا:
”کیوں؟“
”تم نے اس سیدھی سادی معصوم لڑکی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔“
وہ کچھ نہیں بولا۔ کرسی پر سے اٹھا کندھے سے لٹکا ہوا خنجر کرسی کی پشت پر ٹانکا اور اپنے بدن سے چڈھی کو یوں اتارا جیسے وہ کسی کے سامنے نہیں بلکہ غسل خانے میں اکیلا ہو۔ میں نے اس کومادر زاد ننگا دیکھا۔ اس نے چڈھی کو کرسی کی سیٹ پر رکھ کر ہاتھوں سے اس کی سلوٹوں کو برابر کرنے کا کام کرتے ہوئے جواب دیا:
”اگر ہم بدقسمتی سے اپنی پسند کی زندگی جی نہیں پائیں لیکن ہمیں اپنی پسند کی موت مرنے کاموقع مل جائے تو اس طرح کی موت مر جانے میں کونسی برائی ہے۔“
یہ کہہ کر ماجد نے کسی کو پکارا میں نے دیکھا کہ آواز پر کوئی اندر آیا مگر چہرہ نظر نہیں آیا مادر زاد ننگے ماجدنے اس کو اپنی چڈھی پکڑا دی۔ آنے و الے نے ہاتھ بڑھا کر چڈھی لے لی اور جب وہ واپس جانے کو پلٹنے لگا تو اس کے چہرے پر روشنی پڑی۔ میں نے صاف پہچان لیا کہ وہ زویا ہے میری اکلوٹی بیٹی زویا جو بی اے کے آخری سال میں پڑھ رہی تھی۔ میرے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ میں ماجد کو گھورتا رہا پھر یہ سوچ کر کہ کیا ماجد میری بیٹی کے سامنے بھی مادرزاد ننگا تھا۔ میری نظر اس کی ناف کے نیچے پھسلی جہاں سیاہ بالوں کے گھناؤنے گچھے تھے۔ میں نے ابکائی لی اور میری آنکھ کھل گئی۔ میرا بدن پسینے پسینے ہو رہا تھا او رمیں زویا کو چیخ چیخ کر پکار رہا تھا۔

اس روز سارا دن میں ایک عجیب سی کیفیت میں مضطرب رہا۔ دوپہر کو دفتر میں میری بیوی کا فون آیا خدا جانے کیوں اس اضطراب میں سب سے پہلے میں نے بیوی سے اپنی بیٹی زویا کی خیریت پوچھی۔ میری یکایک اس غیر متوقع دریافت پر بیوی کو کچھ حیرت ہوئی بولی :”کیوں؟ زویا کو کیا ہوا ہے، وہ ٹھیک ٹھاک ہے۔“ پھر میری بیوی نے مجھے بتایا کہ زویا بہت دنوں سے اپنے ماموں سے موبائل دلانے کی ضد کر رہی تھی۔ جو اس کے ماموں نے آج اسے تحفے میں دے دیا ہے کیونکہ آج اس کی اٹھارویں سالگرہ ہے۔ یہ سن کرمیں پھر ایک اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہو گیا۔ ایک ہیجانی حالت میں زویا کو اس کے موبائل پر یہ سوچ کر فون کیا کہ اس کے یوم پیدائش پر اسے مبارک باد تو دے ہی دوں۔ ”ہلو…“ ادھر سے جانی پہچانی زندگی سے بھرپور چہکتی ہوئی آواز آئی۔ ایک پل اس آوا زکا سحر مجھے اچھا لگا پھر میں سینے میں کروٹیں لیتے اضطراب کو دباتے ہوئے بولا: ”بیٹی، اپنا خیال رکھنا۔“ میرے منہ سے مبارک باد کا ایک لفظ بھی نہ نکلا بلکہ اس کی جگہ باوجود اپنے کو پوری طاقت سے روکنے کے میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔

اضطراب (اقبال مجید) الزبیر میگزین

شئیر کیجئے! آپکی عنایت کا شکریہ۔۔۔
  • Digg
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • email
  • RSS
  • PDF
  • Technorati

Popularity: 21%

تبصروں کی تعداد: 3. »

  • عبداللہ says:

    راسخ كشميری کا کہنا ہے کہ:
    Sep 04 2009 بوقت 5:28 pm
    حکمرانوں‌ کو کوسنا طعنہ دینا تو ایک عام سی بات ہے لیکن ہم کریں ‌بھی کیا کہ انہی کے ستائے ہوئے ہیں۔‌ الطاف حسین کے بارے میں میں‌تو اتنا ہی جانتا ہوں اگر وہ محب وطن شخص ہے تو 19 سال سے‌انگلینڈ‌کی نیشنلٹی لیکر وہاں کیا کر رہا ہے؟ ہم لوگ کچھ عرصہ تک پاکستان نہ جائیں تو ہمارے وجود میں درد شروع ہوجاتا ہے اور اس درد کی دوا صرف اور صرف وطن کی ہوا ہی ہوتی ہے۔۔۔۔‌ الطاف صاحب میں‌اگر ذرہ برابر بھی حب الوطنی ہے تو اپنے کئے دھرے کا مقابلہ بنفس نفیس پاکستان تشریف لاکر کریں۔۔۔ مسلم لیگ ن انہیں سیکیورٹی تحفظ ٹکٹ رہن سہن کا خرچہ دینے کے‌ لئے حامی بھر رہی ہے جیسا کہ صدیق الفاروق کہہ چکے‌ ہیں۔۔۔

    راسخ صاحب آپنے یہ تبصرہ اجمل کی پوسٹ پر فرمایا ہے کیا آپ واقعی اتنے بھولے ہیں یا بننے کی کوشش فرمارہے ہیں،آپکا کیا خیال ہے کہ ان کی دعوت مکڑی کی دعوت نہیں یہ جو آج بھی اردو بولنے والوں اور متحدہ کے دشمنوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں،یہ بار بار اسے یہاں کیوں بلوانا چاہتے ہین جب کہ ایک بار وہ بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر یہاں سے نکلا ہے اور اس کے نہ آنے سے یہاں کے کوب سے کام رکے پرے ہیں اگر مقدمہ چلانا ہے تو بڑے شوق سے چلائیں اس کے لیئے اس کا یہاں آنا چنداں ضروری نہیں

  • عبد اللہ صاحب! سب سے پہلے تو آپ نے اس جواب کو یہاں پوسٹ کرکے علمی اخلاق کی دھجیاں بکھیری ہیں۔ اگر میں نے تبصرہ وہاں کیا تھا تو آپ جواب بھی وہیں لکھ دیتے۔ اس بحث کو میں نے اپنے بلاگ پر چھیڑا ہی نہیں۔ اس لئے آپ اگر یہاں پوسٹ نہ کرتے تو اچھا ہوتا۔ آپ نے موضوع سے ہٹ کر بات کی ہے۔ اور جب آپ نے یہ بات لکھ ہی دی ہے تو جواب بھی سن لیں:

    سب سے پہلے تو آپ یہ عرض کریں کہ آپ اپنا وقت کیوں اتنا ضائع کرتے ہیں کہ ہر بات کے پیچھے پڑھ کر اس کا جواب بھے لکھنے بیٹھ جاتے ہیں؟ آپ جتنا چاہ لیں کرلیں ایم کیو ایم کا مسخ شدہ چہرہ نہیں بدل سکتے۔ ایم کیو ایم عوام دشمنی اور غلط رویہ ترک کردے ہم انہیں دل وجان سے قبول کرنے کو تیار ہیں۔ ہمارے درمیان فاصلے ہم لوگوں نے نہیں لسانی تعصب پھیلانے والوں نے بڑھائے ہیں۔ دشمنوں کے آلہ کار بنے ہوئے لوگوں سے ہماری کبھی دوستی نہیں ہوسکتی یہ ایک حقیقت ہے۔ ارے ایم کیو ایم پاکستانی ہیں تو پاکستان میں انکے قائد آکر سیاست کریں۔ کیوں ٹیلفونوں پر عوام کو بے وقوف بناتے ہیں ۔۔۔ باقی سارا حساب کتاب میرے بھائی ایک نہ ایک دن تو چکانا ہوگا۔۔۔ میرا آپ کو مشورہ یہی ہے کہ کسی موضوع پر جو آپ کو دلچسپ لگتا ہوں اس پر کتابیں پڑھنا شروع کریں اور لوگوں میں علمِ مفید پھیلانے کا کام کریں۔ بخدا یہ رنجشیں یہ نفرتیں کسی کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ نقصان ہی نقصان ہوگا اور ہمارا ملک اس بات کا متحمل نہیں پیارے۔ سب لوگ ایک ہیں۔ اسک ہی باپ پر سلسلہ نسب ختم ہوتا ہیں۔۔۔ سب زبانوں کا مصدر ایک ہے۔۔۔۔ سب ایجاداتِ عالم کا مصدر ایک ہے۔۔۔ یار پھر کس بات کی لڑائی کرتے ہو؟

    دنیا اب اتنی بیوقوف نہیں رہی۔ سب لوگ کتاب کا ٹائٹل اور آخری صفحہ جانتے ہیں۔۔۔ بلکہ ما بین السطور بھی جانتے ہیں سو خومخواہ ایسی باتیں نہ کریں جو باعثِ نقرت ہوں۔ رہی مکڑی کی دعوت والی بات تو الطاف صاحب میں وہ باتیں ہیں تو مکڑی کی دعوت انکو آ رہی ہے۔۔۔۔ اور وہ اگر واقعی سچے پکے انسان ہیں تو آئیں پاکستان۔ کس بات کا ڈر ہے ان کو؟ ۔۔۔۔ اور مشکل سے جان بچاکر گئے نہیں بھاگے ہیں۔ نیز یہاں اپنے ملک میں آنا ضروری ہے انکا تاکہ بیگناہی کی صورت میں وہ قوم کے ہیرو بھی بن سکیں۔ دشمنوں کی پشت پناہی پر جو شخص ہوتا اور رہتا ہے وہ بے گناہ کبھی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔ اب میں آپ کو اس پشت پناہی کی کیا دلیل دوں پوری دنیا جانتی ہے کہ الطاف صاحب کے پاکستان کے بارے میں کیا خیالات ہیں ۔۔۔ اور دشمنوں کے ساتھ کیا تعلقات ہیں ۔۔۔ حقیقی ایک کیو ایم کس بات کا ثبوت ہے؟ ۔۔۔ ۔ ابھی بھی جیو نیوز دیکھ رہا ہوں تو الطاف صاحب کا ٹیلیفونک بیان نشر ہو رہا ہے ۔۔۔ یار اتنا خشوع وخضوع سے خدا تعالی سے معافی مانگ لی جائے تو وہ بھے معاف کردے۔۔۔۔

    میرے اس بلاگ کی چھاپ ادبی ہے سیاست کا ایک زمرہ بھی موجود ہے اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ اگر کوئی بات میں نے کی ہو تو اس پر آپ تبصرہ ضرور کریں لیکن کاپی پیسٹ کرکے بے محل تبصرہ کرنے سے گریز کیجئے۔ بہت مہربانی ہوگی۔

  • محمد سميع مفتي says:

    بہت اعلی ہمارے معاشرے کا حقیقی روپ بیان کرنے والی کہانی ہے- کاش اس صورت حال کو ٹیھک کرنے کےلیے کچھ کیا جا سکتا-

تبصرہ لکھيں!

آپ کا يہاں تبصرہ کرنا ممکن ہے، يا پھر آپ اپنی سائٹ سے ٹريک بيک کر سکتے ہيں . آپ تبصروں ميں اشتراک بذريعہ: RSS کرسکتے ہيں.

اس موضوع پر تبصرہ فرمائيں اور سپام سے اسے محفوظ رکھيں آپ کے ہم نہايت شکر گزار ہيں....

آپ درج ذيل ٹيگز استعمال کرسکتے ہيں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>