تاریخ کی سب سے پہلی بمبار گاڑی

ملکِ عزیز میں آئے دن بمبار گاڑیوں کے ذریعہ معصوم جانیں ضائع ہوتی نظر آتی ہیں۔ ایسے ہولناک مناظر اب ہماری زندگی میں روٹین بنتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔ کیوں ؟ اس سوال کا جواب اربابِ اختیار ہی دے سکتے ہیں جنکی بصارت پر حرصِ اقتدار اور ہوسِ مال نے پردے ڈالے ہوئے ہیں جبکہ وہ بصیرت سے بھی محروم نظر آتے ہیں۔
***
بمبار گاڑیوں کا تاریخی تذکرہ کرتے ہوئے (Mike Davis) اپنی کتاب (Buda’s Wagon, A brief history of the Car Bomb) میں اسے (Mario Buda) کی طرف منسوب کرتے ہیں جوامریکا میں ایک اطالوی مہاجر دہشت پسندوں کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔
***
ستمبر 1920 کی ایک دوپہر (نیویارک۔ وال سٹریٹ) پر قیامت خیز ثابت ہوئی جب (Mario Buda) نے اپنی گاڑی جسے ایک گھوڑا کھینچ رہا تھا دوراہے پر کھڑی کی اور نکل کر خود ہجوم میں شامل ہوگیا ۔ تھوڑے ہی فاصلے پر کچھ پمفلیٹ بھی گرے پڑے تھے جن پر حکومتِ وقت کے لئے پیغام تحریر تھا کہ’’سیاسی قیدیوں کو رہا کردیا جائے ورنہ یقینی موت سے تم کہیں نہیں بھاگ سکتے ‘‘ یہ پیغام امریکی دہشت پسند تنظیم کی طرف سے تھا۔
***
اس گاڑی کو معدنی بارود اور آتشی مادے ’’جیلاٹین‘‘ سے بھرا گیا تھا۔ اور جب یہ مادہ پھٹا تو اس نے زمین میں گڑھا کردیا تھا ۔ ارد گرد مکانات میں کھڑکیوں کے شیشے چور چور ہوگئے تھے ۔ اور پاس ہی کھڑی مزید گاڑیوں میں آگ لگ چکی تھی جبکہ بڑی بڑی بلڈنگوں کو خالی کرانے کا کام بھی شروع ہوچکا تھا۔ہر جگہ آہ وبکا کی آوازیں سنی جا رہی تھیں۔ اس جہنمی انداز قتل میں 40 جانیں ضائع ہوئیں تھیں اور 200 کے قریب زخمی ہوئے۔
***
(Mario Buda) نے یہ مذموم حرکت حکومتِ وقت سے انتقامی جذبہ کے تحت کی تھی کہ اس کے دو ساتھی (Nicola Sacco) اور (Bartolomeo Vanzetti) قتل وڈکیتی کے الزام میں جیل کاٹ رہے تھے جنہیں بعد میں 1927 کو پھانسی دے دی گئی تھی۔اس حادثہ کے 91 سال بعد چل سو چل خودکش گاڑیوں کا سلسلہ چل نکلا جو کرۂ ارض کے طول وعرض میں پھیلا اور پھیلتا گیا۔ اور آج یہی حربے امریکا اور امریکیوں کے ایجنٹ ہمارے وطن میں آزما کر وطنِ عزیز میں انتشار اور دہشت پھیلا رہے ہیں۔
***
دہشت گردی اور دہشت پسندی کی اصطلاحات اور مذموم اعمال امریکا کی ہے دین ہے۔ بمبار گاڑیوں سے شروع ہوئی یہ داستان بمبار جہازوں تک ارتقائی مرحلے طے کرچکی ہے اور اس سے بڑھ کر خودکش بمبار کی اصطلاح بھی انسانی وحشی اختراعات میں شامل ہوچکی ہے۔ مغربی دنیا نے دنیا کو سوائے ویرانی کے کچھ نہیں دیا۔ عراق وافغانستان نیز فلسطین اور دنیا کے دیگر پسماندہ مسلم ممالک پر ایک نظر ضرور ڈالیں۔ ہر طرف نفرت ووحشت اور بارود کی پھیلتی ہوئی بو ہی محسوس ہوگی۔۔۔
***
تاریخ شاہد ہے کہ عالمِ اسلام نے انسانیت کے لئے بہتری وبرتری کے وہ وہ فارمولے زندگی کے ہر میدان میں ایجاد کئے جنہیں آج مغربی دنیا اپناکر سارا سہرا اپنے سر لے لیتی ہے اور فخریہ انداز میں بتلاتی ہے کہ ہم نے انسانی زندگی کو ترقی اور عروج عطا کیا۔ افسوس کے مسلمانوں نے اپنی ایجادات واختراعات کو آگے نہ بڑھایا ۔ شہوات کے دائرے میں گھومتی ہوئی یہ امت اس بھول کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ خدا ہمارے حال پر رحم فرمائے ۔ آمین۔
راسخ کشمیری۔ مدینہ شریف۔ بدھ 26 رمضان المبارک 1430۔ 16 ستمبر 2009
Popularity: 13%
