قادیانیت، قادیانیوں کے مشہور انگلش تراجم

قادیانیت کے حوالے سے گزشتہ عرصہ بلاگرز کے درمیان کافی لے دے ہوئی ۔ خبروں میں بھی قادیانیت کا تذکرہ ہوتا رہا۔ جناب خود ساختہ جلا وطن (MQM) کے قائدِ ابدی الطاف حسین صاحب نے بھی اس مسئلہ میں بس یونہی ٹانگ اڑائی تو علمائے کرام نے اس ٹانگ کو اپنے قبضے میں اس طرح لیا کہ ٹانگ چھڑانے کے لئے انہیں دوسرا بیان دینا پڑا۔بات یہ ہے کہ ہر کوئی ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کرے گا تو اسکے ساتھ ایسے ہی ہوگا۔ قادیانیوں کے کفر واسلام کا مسئلہ علماء کے درمیان مسئلہ ہے الطاف صاحب ان باتوں سے دور رہیں تو امید ہے اپنی پارٹی کو بہتر طور طریقے پر چلا سکیں گے ورنہ ان کے لئے مشکلات پے درپے آتی رہیں گی۔
***
اس حوالے سے پنجابی فلموں کے ہیرو گورنرِ پنجاب سلمان تاثیر بھی توہینِ ختم نبوت کے قانون پر اپنی بے صبری نہ چھپا سکے بلکہ وہی معاندانہ رویہ اختیار کئے ہوئے غلط بیان دیا۔ انہیں بھی تردیدی بیان جاری کرنا پڑا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ قانون در اصل توہین کے مرتکب آدمی کو کچھ تحفظ اس لئے دیتا ہے کہ کم سے کم اگر پکڑ لیا جائے تو عوام اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جبکہ ختم کرنے کی صورت میں عوام مزید ہوشیار ہوجائے گی۔۔۔ اور دمادم مست قلندر ہوگا۔ ویسے بھی اس معاملے پر ہم لوگ بیحد جذباتی ہیں، کریں بھی کیا کہ یہ معاملہ ہے ہی اتنا حساس۔ ويسے جو واقعتا توہین کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ برا ہی ہونا چاہئے کیونکہ ہم لوگ اپنی ماں بہن کو دی گئی گالی برداشت نہیں کرتے اور قتل پر تل آتے ہیں تو یہ تو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ ہے کہ جن کی محبت سے ہمارے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور اس محبت کا اندازہ ایک غیور مسلمان ہی لگا سکتا ہے۔ ورنہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو مغربی افکار سے آلودہ ذہن لیکر اپنے معاشرے میں تہذیب وتمدن کی لن ترانیاں گاتے نظر آتے ہیں۔۔۔ کیا انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام پر دشنام طرازی تہذیبی عمل ہے؟ اگر نہیں تو اس کا دفاع کرنا بھی ایک غیر مہذب عمل ہے۔ البتہ قانون کی بالادستی ہونی چاہئے تاکہ کوئی شخص ذاتی رنجش کی بنیاد پر اس قانون کا غلط استعمال نہ کرے۔
***
ویسے آج تک جتنے بھی اس حوالے سے واقعے سامنے آئیں ہیں اربابِ معرفت کا کہنا ہے یہ ایجنسیوں کا کھیل ہے جو اس ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتی ہیں۔ملک دشمن عناصر کو یہاں امن وامان ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اور یہ بات بالکل بعید نہیں کیونکہ ہم لوگ جو پاکستان میں رہتے ہیں کبھی ہم نے اپنے غیر مسلم کو دزدیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھا۔ بلکہ اسکا اتنا ہی احترام کیا جاتا ہے جتنا عام انسان کا۔ مذہبی اختلافات کے باوجود قتل وغارت گری تک بات نہیں پہنچتی۔ ہمارے ہاں کتنے گرجہ گھر ہیں کبھی بھی کسی مسلمان نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ جب بھی باتیں سامنے آتی ہیں تو اس میں باہر والوں – خدا انہیں غارت کرے- کا ہاتھ ہوتا ہے۔
***
میں نے یہ موضوع قادیانیوں کے قرآنی تراجم پر گفتگو کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔ لیکن بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ میں یہ موضوع قادیانیوں کے تراجم کی تشہیر کے لئے نہیں لکھ رہا بلکہ ان دوست واحباب کی انتباہ کے لئے لکھ رہا ہوں کہ ان تراجم کو پڑھتے وقت یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ترجمہ کس کا ترجمہ پڑھا جا رہا ہے۔ بصورتِ دیگر جن لوگوں کو مذہبی اختلاف کا علم نہیں ہوتا بعض دفعہ وہ عقیدے کی کشمکش میں پڑ کر اپنا دین ایمان کھو بیٹھتے ہیں۔ عقیدہ اور ایمان ہی ہے جو انسان کو سرخرو کر سکتا ہے ورنہ کفر وشک میں پڑ کر نور سے محروم اور نار کا مستحق بناتا ہے۔ خدا ہمارے دین ایمان کو محفوظ کرے۔ اور راہِ حق پر تادمِ آخر رکھے۔ آمین ثم آمین۔
***
میرے سامنے ڈاکٹر وجیہ بن عبد الرحمن کی ایک بحث موسوم بعنوان (معانئ قرآن کریم کے انگلش تراجم میزانِ اسلام میں) عربی میں موجود ہے۔ جو قرآن پرنٹنگ پریس میں چھپی ہے۔ میں اس بحث کا مکمل ترجمہ تو نہیں کر رہا بلکہ پڑھ کر اس میں چند باتیں جو قادیانیت کے متعلیق ہیں شئیر کر رہا ہوں:
ڈاکٹر صابر طعیمہ اپنی کتاب (باطنی عقائد پر اسلام کا حکم) صفحہ 372 سے لیکر 400 تک اس بحث کو چھیڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب انگریز ہندوستان پر حملہ آور ہوئے اور مغلوں کی سولہویں صدی میں بنائی گئی تیموری سلطنت روبہ زوال ہوئی تو انگریزوں نے اپنے آپ کو 50 ملین مسلمانوں کو اپنے مقابل پایا ۔ اور اس بات کا انہیں ادراک تھا کہ مسلمانوں کا مقابلہ اتنا آسان کام نہیں۔ اور یہ بات بھی نہیں کہ مسلمانوں کے حالات بہتر تھے۔ بلکہ فقر وفاقے کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔
***
آنا فانا قادیانی تحریک قادیان سے شروع ہوئی ۔ ابو الحسن الندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بتدریج اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کیا پہلے اپنے آپ کو مسیحِ موعود ثابت کرنے کی کوشش کی پھر نبوت بلکہ نبوت سے بھی اعلی کا دعوی کر ڈالا ۔ مرزا کی کتابیں براہینِ احمدیہ اور ازالۂ اوہام کے مطالعہ کرنے سے یہ بات بالکل عیاں ہوجاتی ہے۔کہ اس میں مرزا نے الہام اور علم باطنی اور علم یقینی کو ایط طبعی منزل قرار دیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت اور ان میں فناء ہونے سے حاصل ہوسکتی ہے۔پھر مرزا بغیر (نبوت) لفظ کی تصریح کے نبوت کے خصائص کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان خصائص کا پانا تبعیت اور وساطت سے ممکن ہے۔
***
1900 میں عبد الکریم نامی شخص نے خطبۂ جمعہ میں کہہ ڈالا کہ مرزا غلام احمد اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور ان پر ایمان لانا واجب ہے۔ اور انبیاء پر ایمان لاتا ہے اور مرزا پر نہیں لاتا وہ رسولوں کے درمیان تفریق کا مرتکب ہوتا ہے۔
***
قادیانیوں کے اعتقادات میں سے یہ ہے کہ عیسی علیہ السلام اپنی ظاہری موت کے بعد کشمیر کی طرف ہجرت کرگئے تاکہ انجیل کی تعالیم وہاں پر پھیلاسکیں ۔ 120 کی عمر میں وفات پائی اور کشمیر ہی میں دفن ہوئے۔ پھر مرزا نے اس بات کا بھی دعوی کیا کہ وہ مہدی اور عیسی اور محمد علیہم الصلاۃ والسلام ان میں حلول ہیں۔اسی طرح قادیانیوں کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ مرزا غلام احمد مہدی بھی ہے اور نبی بھی۔ قادیانیوں کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ قرآن پاک جو معجزات بتلاتا ہے وہ مجازی اور رمزی تعبیرات ہیں۔
***
قادیانیوں کے مشہور انگلش تراجم
قادیانیوں کے مشہور انگلش تراجم درجِ ذیل ہیں:
1. محمد علی لاہوری کا ترجمہ۔
2. غلام فرید کا ترجمہ۔
3. ظفر اللہ خان کا ترجمہ۔
4. خواجہ کمال الدین کا A Running Commentary on the Holy Quran ترجمہ۔ یہ لندن 1948 میں طبع ہوا۔ اس ترجمہ میں مصنف نے قرآنی آیات کی بعید از قیاس تاویلات کی ہیں۔ مثال کے طور (دخان) یعنی دھواں کے متعلق لکھا ہے کہ اس سے مراد ریل انجن کا دھواں ہے۔
محمد علی لاہوری کا ترجمہ
1916 میں قرآنِ مجید کے نام سے یہ ترجمہ انگلینڈ میں ظاہر ہوا۔ اس وقت چونکہ مسلمانوں کے اوساط میں ابھی کوئی انگریزی مقبول ترجمہ ظاہر نہیں ہوا تھا تو اس ترجمے کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ عبد اللہ یوسف علی اور بکثال کے ترجمے سے قبل اسے مسلمانوں کا ترجمہ تصور کیا جاتا تھا۔ اس ترجمہ میں جو عقائدی غلطیاں ہیں وہ صریح ہیں مثال کے طور عیسی علیہ السلام کی موت کا قول ہےتاکہ مرزا قادیانی کی نبوت کو سچ ثابت کیا جاسکے۔ اسی طرح فرشتوں کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالی کی خیر کی ارادی قوت کی تمثیل ہے۔ جبکہ جن شر کی مجازی تعبیر ہے۔ اسی طرح جنت کو اللہ تعالی کی رضا کی معنوی تجسید گردانا گیا ہے۔ اور دوزخ کو اللہ تعالی کی ناراضگی کی معنوی تجسید لکھا گیا ہے۔اور تمام معجزات کا سرے سے ہی انکار کیا گیا ہے۔
***
ظفر اللہ خان کا ترجمہ
1371 ہجری میں یہ ترجمہ لندن میں The Quran نام کے تحت شائع کیا گیا۔ اس میں معجزات کی غلط تاویل کی گئی۔ نیز جنات کے وجود کا انکار کیا گیا۔ اور یہ لکھا گیا کہ یہ انسان کا ہی ایک Aristocratic Group ہے جو عوام الناس کے ساتھ نہیں رہتا۔ اسی طرح شیطان کو نفسِ امارہ بالسوء کی مجازی تعبیر گردانا گیا ہے۔
قادیانیت کے متعلق کتابوں کے مطالعہ کے لئے اس ربط پر تشریف لے جائیں۔
Popularity: 46%

ہم لوگ اس قدر کمزور پڑ گئے ہیں کہ ان فتنوں کو دبا نہیں سکتے اور ہم ایسی باتوں کو مزہبی ہم آہنگی کے دھوکے میں آکر قبول کر لیتے ہیں۔
قادیانیت ایک فتنہ ہے نہ کہ مذہب۔ ریاست کو چاہیے کہ ان کو ملک بدر کردے۔ لیکن یہ لوگ تو ریاست کے ستون بنے بیٹھے ہیں۔
آپ کی بات سو فیصد درست ہے۔ یہ لوگ باہر بیٹھ کر پاکستان ہی کے متعلق وہ سازشیں کرتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ خدا پاکستان کو محفوظ رکھے۔ آمین۔
Dear Friends:
Qadyanies are widely spread among Muslims without any visual distinction. Please beware of their false Ideas. And do not download any Islamic Data without its author’s or translator’s information.
Allah tala her sazshi se behter intqam lene wala he
ماشاءاللہ قادیانیوں کے متعلق آپ کی معلومات حقائق پر مشتمل ہیں اللہ تعالیٰآپ کو جزائے خیر دے آمین
السلام علیکم
میں سمجھتا تھا، کہ قادیانیوں کے متعلق صرف علماء طبقہ ہی جانتا ہے لیکن میں غلط تھا۔ آپ نے ان کے تراجم کا تعارف کرواکر واقعی ختم نبوت کے خادمین میں اپنا نام لکھوالیا ہے۔ اللہ ہمیں بھی اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ان بھاءیوں کو جو بے دینی میں بھٹک رہے ہیں ایک سیدھی راہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان الدین عند اللہ الاسلام۔
والسلام
وعليکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عطا بھائی
اللہ تعالی آپ کی زبان مبارک کرے اور خاکسار کا نام خادمانِ ختم نبوت ميں لکھا جائے
آپ کے الفاظ ودعا ميرے لئے فرحت افزا ہے
اللہ آپ کو خوش وخرم رکھے
آمين
آمین آمین ہمیں بھی دعائوں میں یاد رکھیں۔
والسلام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
میں نے آپ کی اجازت کے بغیر یہ معلوماتی صفھہ ان گروپس کو جو میں نے جوائن کئے ہیں، بھیجا ہے، اب اطلاع عرض کررہا ہوں۔ امید ہے آپ منع نہیں کرےں گے۔ شکریہ
والسلام علیکم
عطا رفيع بھائی
وعليکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بھائی جی علم ہوتا ہی بانٹنے کے لئے ہے۔ آپ نے اچھا کيا کہ آپ نے يہ صفحہ شئير کيا ہے۔ جہاں جہاں آپ کو درست معلوم ہو وہاں تير کا بيج ڈال ديا کيجئے۔