طمانچہ

امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے آج ایکسپریس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیری لوگر بل اگر پاکستانی پارلیمنٹ میں پاس نہ ہوا تو یہ ایک طمانچہ ہوگا۔ پاکستان کی غیور قیوم پہلے ہی اس کشکول کو مسترد کرچکی ہے۔ پارلیمنٹ کو بھے چاہئے کہ یہ بل مسترد کرکے غیرت کا ثبوت دیں اور جو طمانچہ امریکی سفیر نے کہا وہ امریکا کہ منہ پر دے ماریں۔ ویسی بھی اہلِ انجیل کا کہنا ہے کہ اگر آپ کوکوئی ایک تھپڑ مارتا ہے تو دوسری گال بھی اس کے آگے کردیں۔ تمنا ہے ایسا ہی ہو۔ ہمیں امریکہ سے تعلقات رکھنے کی اگر ضرورت ہے تو ضرور رکھیں پر یہ تعلقات برابری کی بنیاد پر ہوں۔ غلامی کسی صورت پاکستانی عوام کو قابلِ قبول نہیں۔
ہمارے حکمرانوں سے تو خدا ہی پوچھے کہ وہ ایسے بھیک کیوں مانگ رہے ہیں۔ صدر زرداری اور اس کے حواریوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ڈالروں کی زرق برق دیکھ کر دین ایمان وطن کھونے کے لئے تیار ہیں۔ حسین حقانی صاحب تو ہمارے سفیر ہی نہیں لگتے۔ وہ اکثر باتوں میں امریکہ کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ یار ہوس کی بھے انتہا ہوتی ہے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ عدلیہ اور فوج کو مداخلت سے روکنے کی شق زرداری صاحب اور انکی حواریوں کا کارنامہ ہے جو بیکار نامہ ثابت ہو رہا ہے۔ فوج نے اس بل کی مخالفت کرکے عوام کی نمائندگی کی ہے۔ اور جمہوریت والے اسے مداخلت قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ امریکہ اپنی چھاؤنیاں پاکستان میں تعمیر کر رہا ہے اور جمہوریت والوں کو کچھ نظر نہیں آ رہا۔ اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت عطا کرے۔ آمین۔
Popularity: 6%
