حمد باری تعالی

قصرِ نگاہ میں ہے جلوہ مقیم تیرا
یہ بھی کرم ہے مجھ پر چشمِ کریم تیرا
فرشِ رسول پر ہے پیہم نزولِ رحمت
قوسین کا مقدر عرشِ عظیم تیرا
شہرِ نظر میں تیری رحمت برس رہی ہے
مدحت سرا جہاں ہے ربِّ رحیم تیرا
یہ چاند، یہ ستارے، یہ کیف زا نظارے
ہر چیز سے ہے ظاہر حسنِ قدیم تیرا
شاخیں مہک رہی ہیں، غنچے چٹک رہے ہیں
تھامے ہوئے ہے دامن دستِ شمیم تیرا
ارض و سماء میں تیرے بکھرے ہوئے ہیں جلوے
عرفان کاش کرتی عقلِ سلیم تیرا
ہر سمت عام ہے اب تیرے کرم کی نعمت
ہر سُو برس رہا ہے لطف عمیم تیرا
تقسیم کر رہی ہے کب سے گلوں میں خوشبو
دامن مہک رہا ہے کب سے نسیم تیرا
جلتا نہ طورِ موسیٰ، بجھتیں نہ آرزوئیں
جلوہ جو دیکھ لیتی چشمِ کلیم تیرا
اب شوق مدح گو کی اتنی سی آرزو ہے
پیغامِ صد بہاراں بخشے وسیم تیرا
فرزند علی شوق۔ مجلۃ الزبیر
Popularity: 4%
