ہو کیسے ضبط چاہت اس بہار میں؟

ہو کیسے ضبط چاہت اس بہار میں
دل اب رہا کہاں ہے اختیار میں
تم تو غرور میں رہتے ہو ہر گھڑی
چکھ لو کبھی مزہ ہے انکسار میں
جب وصل کا کہوں انکار ہی کرے
اک بس یہی بری عادت ہے یار میں
تیرے حصار سے نکلوں تو موت ہے
مرجاؤں کیوں نہ پھر تیرے حصار میں
راسخ کے دل میں راسخ ہے تری وفا
رہ لوں گا عمر بھر تیرے انتظار میں
جولائی 19
2006
Popularity: 6%

السلام علیکم
بھئی ماشاءاللہ کیا خوب صورت اشعار ہیں۔
اتنی ہی خوب صورت تصویر کا چناؤ کیا ہے۔
سبحان اللہ
شمس آپ کی تشریف آوری اور پسندیدگی کا شکریہ