سرورق » نستعلیق

نستعلیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم
والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم

Nastaleeq

جب سے ہماری قوم جغرافیائی طور پر آزاد ہوئی ہے تب سے اپنوں کی بے اعتنائی اور غیروں کے ستم سہنے پڑے۔ اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہم سے ابھی تک نہیں بن پائی۔ نتیجتا شعبہائے زندگی میں ہم بنیادی کام بھی نہ کرسکے۔ ایک اسلامی مملکت ہونے کے ناطے ہمیں قرآن اور کی خدمت جو کرنی چاہئے تھی وہ بالکل نہ ہو پائی۔ یہ ذمہ داری حکومتوں کی ہوتی ہے۔ مگر اقتدار کے نشہ میں مدہوش ہمارے حکمرانوں سے ہم کیا گلہ شکوہ کریں؟ کہ بلاتے بلاتے گلے بیٹھ گئے آوازیں بند ہوگئیں!!

لیکن کیا غیور افراد یونہی ہاتھ دھرے بیٹھ جائیں؟ یقینا نہیں۔۔۔ ہم لوگوں سے جتنا ہوسکتا ہے کر گزریں۔ ہم اپنی ذمہ داری جہاں تک نباہ سکتے ہیں نباہیں باقی کام رب ذو الجلال کا ہے کہ اسی کے دسترس میں نفع ونقصان کی کنجیاں ہیں۔

جب سے ٹائپوگرافی سے تھوڑی بہت آشنائی ہوئی اور اپنی زبان اور رسم الخط پر غیور دوست احباب کا کام دیکھا تو اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالنے کی چنگاری بھی مجھ میں ابھری۔ عرصہ دراز سے ذہن میں تھا کہ دو کام انتہائی اہم ہیں جو کرنے ہیں۔ ایک قرآن پاک کی طباعت کے میدانِ مرغزار میں چند پھول اپنی طرف سے بونے ہیں۔ دوم اردو زبان اور خطِ نستعلیق کا حق ادا کرنا ہے۔ یہ بلاگ انہی کاموں کی بسم اللہ ہے۔ یہ دونوں میدان مارنے کا دعوی تو غیر منصفانہ ہوگا۔ لیکن چند قطرے قرآن پاک کی طباعت، اردو زبان کا فروغ اور اردو رسم الخط یعنی نستعلیق کے فروغ میں اس بلاگ کے ذریعہ برسا سکا تو سیرابئ ذوق وشوق کی صورت نکل سکتی ہے۔ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی مجھے اور دیگر احباب کو توفیق عطا فرمائے اور اپنی نوازش وعنایات شامل حال رکھے۔ آمین ثم آمین۔

حرف سے لفظ، لفظ سے جملہ، جملے سے بات، بات سے خبر، خبر سے قصہ، قصہ سے تاریخ، تاریخ سے ثقافت، اور ثقافت میں ہر چیز سموئی ہوئی ہوتی ہے۔۔۔ سیاست، ادب، اور دیگر علوم وفنون، ادب میں اگرچہ سیاست کا عملا دخل نہیں ہوتا۔ لیکن اس ادبی منبر سے کبھی کبھار صدائے سیاست بھی بلند ہوا کرے گی۔ یہ صدا ضمیر کی آواز ہوگی۔ یہ امانت ہوگی جو میری قوم تک پہنچنی چاہئے۔ اور میری قوم پر فرض بنتا ہے کہ اپنے ارد گرد کو پرکھے۔ ماحول برا ہے تو اسے اچھا بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ جہاں ظلم ہو رہا ہو وہاں صدائے احتجاج بلند کرے۔ خاموش رہنا اپنے اور معاشرے سے سب سے بڑا ظلم ہے۔

نستعلیق ایک مشکل اور سادہ خط ہے ۔اس کا جمالیاتی پہلو اسی میں مضمر ہے کہ اسکو حرکات کے رنگوں سے نہیں رنگا جاتا۔ نہ ہی اس کے لبوں کو رنگا رنگ سرخیوں سے سجایا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بلاگ بھی بالکل سادہ  اور فطری ہے۔۔  یہاں ہر بات سادہ ہوگی چاہے وہ ادبی لہجے  میں کہی جائے یا سیاسی انداز میں۔۔۔

گوکہ یہ بلاگ میرا ہے لیکن چونکہ کم ہی ادبی تحریریں لکھتا ہوں اس لئے اسے خاص طور پر الزبیر میگزین جو بہاولپور اردو اکیڈمی سے صادر ہوتا ہے کی تحریروں سے مالامال کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں الزبیر میگزین کے مدیر ڈاکٹر شاہد رضوی کا بیحد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے کہنے پر میگزین کی قدیم وجدید فائلیں مہیا کیں اور بدستور کر رہے ہیں۔  دعا گو ہوں کہ اردو کہ اس دیوانے کو خدا سدا بہار رکھے اور دنیا جہاں کی خوشیاں اس کے قدموں میں ڈال دے۔ آمین ثم آمین۔

راسخ کشمیری
مدینہ منورہ

Popularity: 24%

شئیر کیجئے! آپکی عنایت کا شکریہ۔۔۔
  • Digg
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • email
  • RSS
  • PDF
  • Technorati